ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

دبئی میں کرونا وبا کے دوران ولاز کے خریداروں اور کرایوں میں نمایاں اضافہ

datetime 1  جولائی  2020 |

دبئی (این این آئی )دبئی میں کرونا وائرس کی وبا کے دوران میں ولاز کے خریداروں یا انھیں کرائے پر لینے والوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔غیرملکی خبررساں ادارے نے بتایاکہ متحدہ عرب امارات سے تعلق رکھنے والے پراپرٹی پورٹل بیوت کے فراہم کردہ ڈیٹا کے مطابق فروری اور مارچ میں فروخت کے لیے تیار ولاز میں خریداروں کی دلچسپی میں 426 اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔

اپریل میں ولاز کی تلاش میں سرگرداں افراد کی تعداد میں 256 فی صد اضافہ ہوا ہے۔بیوت کے مطابق یہ بات بالکل قابل فہم ہے کہ ان ولاز کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کرنے والے گاہکوں کی تعداد میں اضافے کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ ذاتی لحاظ سے کھلی جگہوں کے ساتھ اقامت کا ایک محفوظ انتظام چاہتے ہیں۔امارات کے حکام کرونا وائرس کی وبا کے مہلک اثرات کے خاتمے کے لیے کوشاں ہیں اور انھوں نے قومی معیشت کی ترقی کے لیے کئی ایک ترغیبات متعارف کرائی ہیں۔تجزیہ کاروں اور مبصرین نے یہ پیشین گوئی کی ہے کہ کووِڈ-19 کے بحران کے خاتمے کے ساتھ ہی یو اے ای ایک بہتر پوزیشن میں ہوگا۔بیوت کا کہنا تھا کہ خریدار دوست ماحول کی وجہ سے لوگ فروخت کنندگان سے زیادہ بہتر قیمت پر سودے طے کرنے کی پوزیشن میں ہیں۔اس کی رپورٹ کے مطابق خریدار عربیئن رانچز ، دا ولا اور پام جمائرہ میں واقع ولاز کی خریداری میں زیادہ دلچسپی کا اظہار کررہے ہیں۔اپنے ذاتی گھر کے مالک بننے کے خواہاں خریدار 24لاکھ درہم (654000 ڈالر) تک فروخت کے لیے دستیاب ولاز کی تلاش میں ہیں۔کرونا وائرس کی وبا کے دوران میں دبئی میں واقع اپارٹمنٹوں کی فروخت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے اور خریداروں نے ولاز کے مقابلے میں کم قیمت اپارٹمنٹوں کی خرید میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔بیوت کے مطابق مارچ میں ان اپارٹمنٹوں کی خرید میں اظہار دلچسپی کرنے والوں میں 4 فی صد اور اپریل میں 94 فی صد اضافہ ہوا ہے۔انھوں نے دبئی میرینا ، ڈان ٹرن دبئی اور جے وی سی میں 6 لاکھ درہم سے کم قیمت میں اپارٹمنٹس کی خریداری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔تاہم بیوت کا کہنا ہے کہ اپارٹمنٹوں کو کرائے پر حاصل کرنے والوں کی تعداد میں کوئی اضافہ نہیں ہوا ہے بلکہ کمی واقع ہوئی ہے۔ دبئی میں مارچ میں کرائے کے لیے اپارٹمنٹس کی تلاش کرنے والوں کی تعداد میں 22 فی صد اور اپریل میں 89 فی صد کمی واقع ہوئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…