جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

برطانیہ میں آدھے سے زیادہ کیسز پاکستان سے آئے ہیں،آکسفورڈ یونی ورسٹی کی ریسرچ نے برطانوی میڈیا کا بھانڈہ پھوڑ دیا

datetime 1  جولائی  2020 |

اسلام آباد(این این آئی)برطانوی اخبارات نے دعویٰ کیا ہے کہ برطانیہ میں آدھے سے زیادہ کیسز پاکستان سے آئے ہیں جبکہ معاون خصوصی زلفی بخاری نے اس پر ردِ عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا کیسز سے متعلق پاکستان سے منسوب شرم ناک اور گھٹیا رپورٹنگ کی گئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق برطانوی اخباروں نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق پاکستان سے خبریں منسوب کرنا شروع کر دیا ہے

جس پر وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے اوورسیز پاکستانیز زلفی بخاری نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا ہے۔زلفی بخاری نے ٹیلی گراف، ڈیلی میل اور دی سن میں شائع خبریں بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دے دیں، انھوں نے کہا کرونا کیسز سے متعلق پاکستان سے منسوب شرم ناک اور گھٹیا رپورٹنگ کی گئی ہے۔برطانوی اخبار نے یہ دعویٰ کیا کہ برطانیہ میں آدھے سے زائد کرونا کیسز پاکستان سے آئے، اخباروں نے لکھا کہ برطانیہ میں مقیم 15 لاکھ برٹش پاکستانیوں کی زندگی خطرے میں پڑ گئی ہے۔جواب میں زلفی بخاری نے آکسفورڈ یونی ورسٹی کی تازہ تحقیق کے اعداد و شمار ٹویٹ کر دئیے، انھوں نے کہا آکسفورڈ یونی ورسٹی کی ریسرچ نے برطانوی میڈیا کا جھوٹ بے نقاب کر دیا ہے، برطانیہ میں کرونا کیسز 1300 مختلف مقامات سے پہنچے، زیادہ تر کیسز اسپین، فرانس اور اٹلی سے ایکسپورٹ ہوئے، جس وقت برطانیہ میں کرونا کیسز بڑھے اس وقت پاکستان کی فضائی حدود بند تھیں۔معاون خصوصی نے کہاکہ برطانیہ میں کرونا کیسز فروری کے آغاز اور پاکستان میں فروری کے اختتام پر رپورٹ ہوئے، جب برطانیہ میں کرونا کا آغاز ہوا اس وقت پاکستان میں کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا تھا، ایک بھی کیس رپورٹ ہونے سے قبل پاکستان کرونا کیسے ایکسپورٹ کر سکتا تھا؟زلفی بخاری نے کہا کہ برطانیہ میں 80 فی صد کیسز 28 فروری سے 29 مارچ کے درمیان رپورٹ ہوئے، مارچ میں پاکستان اپنی فضائی حدود بند کر چکا تھا، ٹریول بین کے دوران کسی کو بیرون ملک آنے جانے کی اجازت ہی نہیں تھی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…