جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

کورونا وائرس کیخلاف جنگ لڑنے والی عوام پر حکومت کا”پٹرولیم بم “ سے حملہ، مشیر پٹرولیم نے پٹرولیم مافیا کو سہولت دینے کیلئے کیا افسوسناک کام کیا؟

datetime 26  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(آن لائن) اوگرا کی سمری کے بغیر ہی وفاقی حکومت نے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کے لئے مہنگائی کے مزید دروازے کھول دئیے گئے ہیں۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ خلاف معمول یکم جولائی کی بجائے تین دن پہلے ہی کردیا گیا۔ مصدقہ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے پٹرول کی قیمت میں 25روپے فی لیٹر اضافہ کرتے وقت خلاف معمول اور خلاف توقع اوگرا کی

ماہانہ سمری کا بھی انتظار نہیں کیا۔ قبل ازیں اوگرا ہر ماہ کے اختتام پر یکم تاریخ کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی یا اضافے سے متعلق سمری حکومت کو بھجواتی ہے جس پر وفاقی حکومت فیصلہ کرتی ہے کہ عوام کو ریلیف دیا جائے گا یا تکلیف دی جائے گی۔ چونکہ ملک میں پٹرول 74روپے فی لیٹر ہونے کے بعد پٹرول مافیا نے پٹرول کی قلت پیدا کر کے حکومت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا تھا اس لئے حکومت کے مشیر برائے پٹرولیم ندیم بابر نے پٹرولیم مافیا کو سہولت دینے کے لئے اوگرا کی سمری چیئرمین اوگرا سے مشاورت بھی کرنا گوارا نہیں کی بلکہ وزیراعظم عمران خان کوپٹرول کی قلت کا خوفناک پہلو دکھا کر قیمتوں میں نہ صرف خوفناک اضافہ کر دیا ہے بلکہ یکم جولائی کا انتظار کئے بغٰیر ہی 27جولائی کو اس مہنگائی نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے اس سے عوام کے لئے پریشانی ضروری پیدا ہوئی ہے لیکن پٹرول کی قلت پیدا کرنے والے مافیا اور ان کے سرپرستوں کے لئے اب اطمینان بخش صورتحال پیدا ہوگئی ہے۔ اس حوالے سے وزرات پٹرولیم کے حکام کا کہنا ہے کہ 25مارچ کو بھی حکومت نے اوگرا کی سمری کے بغیر ہی پٹرولیم مصنوعات میں 15روپے کمی کی تھی۔ اسی اختیار کے تحت اب اوگرا کی سمری کے بغیر ہی 25روپے کا اضافہ کیا گیا ہے اس لئے یہ کوئی انوکھا کام نہیں کیا گیا۔ پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ خلاف معمول یکم جولائی کی بجائے تین دن پہلے ہی کردیا گیا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…