ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

جعلی ڈگری والے پائلٹس کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے،وفاقی وزیر غلام سرور کی ڈگری بارے بھی دھماکہ خیز بات کردی گئی

datetime 26  جون‬‮  2020 |

ا سلام آباد (این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کی ڈپٹی سیکرٹری اطلاعات پلوشہ خان نے غلام سرور خان کی پریس کانفرنس پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ اگر جعلی ڈگری پر خدانخواستہ کوئی پائلٹ کام کررہا ہے تو اسے قرار واقعی سزا ملنی چاہئیے مگر غلام سرور اپنی ڈگری کا تو بتائیں،غلام سرور خان سات سال تک پنجاب ٹینکل بورڈ کے جعلی ڈپلومے کا کیس بھگتے رہے اور اب دوسروں کی ڈگریاں چیک کررہے ہیں،

پائلٹس کی ڈگری پر سوال اٹھانے والے غلام سرور خان کی اپنی ڈگری عدالت میں چیلنج ہوگئی تھی۔ ایک بیان میں پلوشہ خان نے کہاکہ کوئی بھی سیاسی جماعت جعلی ڈگری پر پائلٹوں کو بھرتی نہیں کرسکتی، اگر کوئی پائلٹ جعلی ڈگری پر بھرتی ہوا ہے تو سول ایوی ایشن اتھارٹی اس کی ذمہ دار ہے، پائلٹ خود اپنی ڈگریوں کا معاملہ عدالت لے کر گئے، جہاں یہ کیس زیرسماعت ہے۔پلوشہ خان نے کہاکہ سیاسی جماعتوں کا کام پائلٹوں کی بھرتی نہیں، یہ اداروں کے ہیومن ریسورسز کا کام ہوتا ہے، سیاسی مخالفت کی آڑ میں پی ٹی آئی ملک کو بدنام کررہی ہے، حکومت پاکستانی پائلٹوں کی جعلی ڈگریوں کی بات کرکے دنیا میں پاکستان کا منفی امیج بنارہی ہے، اگر پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کے معاملے پر پاکستان ائیرلائن پر کوئی پابندی لگتی ہے تو کون ذمہ دار ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پوری دنیا کے میڈیا میں پائلٹس کی جعلی ڈگریوں کے معاملے پر تضحیک ہورہی ہے اور حکومت سیاسی پوائنٹ اسکورنگ میں مصروف ہے، حکومت سیاسی جماعتوں کی مخالفت میں وہ حد عبور نہ کرے کہ جس سے ملک کی بدنامی ہو، پائلٹوں کی جعلی ڈگریوں کی بات کرکے غلام سرور خان مسافروں کا قومی ائیرلائن پر سے اعتماد ختم کررہے ہیں۔پلوشہ خان نے کہاکہ اگر پی ٹی آئی میں میرٹ کی بات کی جائے تو وزیراعظم سمیت آدھی کابینہ فارغ ہوجائے گی، اپنے اداروں کے خلاف ہرزہ سرائی کرکے یہ نوکریوں سے نکالنے کا نیا طریقہ ہے، اسٹیل ملز کے بعد پی آئی اے سے بھی لوگوں کو نوکریوں سے نکالنے کی سازش کی جارہی ہے، عمران خان اپنے دوستوں کو پی آئی اے فروخت کرنے کے لئے سازشیں کررہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…