ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وبا کی آڑ میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا جارہا ہے عالمی سماجی تنظیم کا انکشاف،کھلے خط میں خبردار کردیا گیا

datetime 25  جون‬‮  2020 |

اسٹاک ہوم(این این آئی ) انسٹی ٹیوٹ فار ڈیموکریسی اینڈ الیکٹورل اسسٹنس(آئیڈیا)نے 500 مشہور سیاسی و سماجی شخصیات کے دستخطوں سے ایک کھلا خط جاری کیا ہے جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ کئی ممالک میں کورونا وبا کی آڑ میں جمہوریت کو نقصان پہنچایا جارہا ہے اور انسانی حقوق پامال کیے جارہے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق اسٹاک ہوم، سویڈن میں واقع آئیڈیا سے جاری ہونے والے اس کھلے خط پر مختلف ممالک کے سابق صدور، سابق وزرائے اعظم، ماہرینِ قانون، دانشوروں اور نوبل انعام یافتگان سمیت تقریبا 500 شخصیات کے دستخط ہیں۔اس خط میں کہا گیا ہے کہ آمرانہ طرزِ حکمرانی والے ممالک کے علاوہ جمہوری نظامِ حکومت کے حامل کئی ملکوں میں بھی کورونا وائرس کو بنیاد بناتے ہوئے انسانی حقوق کی پامالی اور جمہوریت کے منافی اقدامات کا سلسلہ بڑھتا جارہا ہے۔علاوہ ازیں، کئی ملکوں میں حکومتوں نے اپنے سیاسی مخالفین کو خاموش کرنے کیلیے بھی کورونا وبا کی آڑ میں اظہارِ رائے پر پابندی اور خفیہ نگرانی جیسے اقدامات تک کیے ہیں۔خط میں اس امر پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ جمہوری طور پر منتخب ہونے والی بعض حکومتیں بھی کورونا وبا سے نمٹنے کیلیے ہنگامی حالات کا نام لے کر اپنے خصوصی اختیارات کا غیر ضروری اور ناجائز استعمال کررہی ہیں جن کے تحت کرفیو اور بھاری جرمانوں کے علاوہ سنسرشپ کے ذریعے نہ صرف میڈیا بلکہ اختلافِ رائے رکھنے والوں کو بھی خاموش بھی کیا جارہا ہے۔مزید یہ کہ اسی خط میں اقوامِ عالم کی توجہ اس جانب بھی مبذول کروائی گئی ہے کہ کئی ملکوں میں کورونا وبا سے نمٹنے کے نام پر انتظامیہ کے اختیارات میں بھی اضافہ کردیا گیا ہے جس سے ان ملکوں میں مزید بے چینی پھیل رہی ہے۔کورونا وائرس کی وجہ سے اب تک دنیا بھر میں 66 انتخابات ملتوی کیے جاچکے ہیں جن میں 22 قومی سطح کے انتخابات بھی شامل ہیں۔ مزید برآں، جن 50 ممالک میں میڈیا پر کسی نہ کسی شکل میں پابندیاں عائد کی گئی ہیں، ان میں سے 21 جمہوری ممالک ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…