منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

اگست تک کورونا سے متاثرہ افراد کی تعداد چالیس لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ، ملک میں طبی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجادی

datetime 24  جون‬‮  2020 |

لاہور (این این آئی)طبی ماہرین نے ملک میں کورونا سے متعلق خطرے کی گھنٹی بجادی اور جولائی اگست تک متاثرہ افراد کی تعداد 40 لاکھ تک پہنچنے کا خدشہ ظاہر کر دیا۔ ایک انٹرویومیں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن لاہور کے صدر پروفیسر اشرف نظامی نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ کورونا کی صورتحال آئندہ ماہ مزید خطرناک ہو سکتی ہے اور جولائی،اگست تک کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 35 سے 40 لاکھ تک جاسکتی ہے

جب کہ اموات بھی بڑھ 80 ہزار تک پہنچ سکتی ہیں۔ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائسنز کے پروفیسر سعید خان نے بھی ان ہی خدشات کا اظہار کیا ہے جن کے مطابق پاکستان میں اس وقت کورونا کے جتنے مریض سامنے آرہے ہیں اور جتنی اموات ہورہی ہیں وہ آنے والے وقتوں میں 4 سے 5 گنا تک بڑھ سکتی ہیں۔پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن ملتان کے صدر ڈاکٹر مسعود ہراج کا کہنا ہے کہ اگر لوگوں نے احتیاط نہ کی تو مریضوں کی تعداد 10 لاکھ سے بھی بڑھ جائے گی۔طبی ماہرین نے کورونا کے ٹیسٹوں کی شرح میں اضافہ کے ساتھ مریضوں کی تعداد بڑھنے کا بھی خدشہ ظاہر کیا۔خیبر پختونخوا کے پرائیویٹ اسپتال انتظامیہ کے مطابق کورونا تیزی سے پھیل رہا ہے تاہم صوبے میں صرف 22 فیصد افراد کے ہی ٹیسٹ ہی کیے جارہے ہیں، سرکاری اور نجی لیبارٹریز میں زیادہ ٹیسٹ کیے جائیں تو اگلے ماہ تک کیسز بہت زیادہ ہوجائیں گے۔خیبرپختونخوا کے نجی اسپتال کے پروفیسر مختیار زمان کے مطابق صوبے میں اگر ایک لاکھ ٹیسٹ یومیہ کیے جائیں تو کیسز کی تعداد 25 ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔ملتان سے ڈاکٹرز پائنیئر یونٹی کے صدر ڈاکٹر شاہد راؤ کا کہنا ہے کہ کورونا کا ایک مریض 10 سے زائد افراد میں کورونا پھیلا سکتا ہے اس لیے مریضوں کی تعداد بڑھتی چلی جارہی ہے اور جس تیزی سے ملک میں مثبت رپورٹس آ رہی ہیں کسی دن 6 ہزار تو کبھی 6 ہزار سے زائد، یہ نمبر اس سے بھی زیادہ ہو سکتے ہیں جو حکومت بتا رہی ہے۔محققین کے مطابق ملک میں بہت بڑی تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو کورونا سے متاثر ہیں، لیکن ان کا کوئی ریکارڈ نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…