ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا وائرس سے جنوبی ایشیا کے کروڑوں بچوں کا خط غربت میں داخل ہونے کا خطرہ ، اقوام متحدہ کی تہلکہ خیز رپورٹ

datetime 24  جون‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی)اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ کورونا وائرس سے طویل مدتی اثرات کے نتیجے میں جنوبی ایشیا کے 10 کروڑ سے زائد بچے غربت کی لکیر سے نیچے آسکتے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ گنجان آباد والے اس خطے میں گزشتہ چند ہفتوں میں کورونا کیسز میں اضافہ ہوا ہے۔انہوں نے کہا کہ اضافے کی ایک بڑی وجہ معاشی سرگرمیوں کو بحال کرنے کے لیے لاک ڈاؤن میں نرمی ہے

جو وبا سے بری طرح متاثر ہوئی ہے۔یونیسیف نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ اگرچہ بچے وائرس سے کم متاثر ہوئے تاہم وبا کو پھیلنے سے روکنے کے لیے نافذ لاک ڈاؤن کی وجہ سے معاشی اور معاشرتی اثرات سے بچے شدید متاثر ہوئے۔رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیا میں تقریباً 60 کروڑ بچے موجود ہیں جن میں 24 کروڑ بچے پہلے خط غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے پرمجبور ہیں۔رپورٹ میں متنبہ کیا گیا کہ بدترین صورتحال میں وائرس 6 مہینوں کے اندر مزید 12 کروڑ بچوں کو غربت اور غذائی عدم تحفظ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔یونیسیف کے جنوبی ایشیا کے ریجنل ڈائریکٹر جین گو نے ایک بیان میں کہا کہ اب فوری کارروائی کے بغیر کووڈ 19 پوری نسل کی امیدوں اور مستقبل کو ختم کرسکتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ بچوں کے لیے جاری مختلف غذائی اور حفاظتی ٹیکوں کے پروگرام بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔یونیسف نے کہا کہ بنگلہ دیش میں معلوم ہوا ہے کہ کچھ غریب ترین خاندان ایک دن میں تین وقت کا کھانا برداشت نہیں کرسکتے ہیں جبکہ سری لنکا میں اس سروے میں بتایا گیا کہ 30 فیصد خاندانوں نے اپنے کھانے کی مقدار میں کمی کردی ہے۔اسکولوں کی بندش، انٹرنیت تک عدم رسائی، بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے غریب بچے اپنی تعلیم کے حصول کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ دنیا میں بھر میں تقریباً 3 کروڑ 20 لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم ہیں اور کووڈ 19 کی وجہ سے لاکھوں بچے اس تعداد میں اضافے کی وجہ بن جائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…