منگل‬‮ ، 04 اگست‬‮ 2026 

کرونا وبا سے بچنے کے لیے لوگوں نے سائیکل پر سواری شروع کر دی

datetime 23  جون‬‮  2020 |

ڈھاکا(این این آئی)بنگلادیش میںکرونا وبا سے بچنے کے لیے لوگوں نے سائیکل پر سواری شروع کر دی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے پہلے ڈھاکا میں رہنے والی 27 سالہ نسرین نیپا کے لیے کار پول کر کے دفتر جانا کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے اب کار پر جانا ٹھیک نہیں تو انہوں نے اس کا حل نکال لیا ہے اور دفتر جانے کے لیے

سائیکل کا استعمال شروع کر دیا ہے۔نسرین، جو ڈھاکہ میں اشتہاری کمپنی میں کام کرتی ہیں، نے بتایا کہ ان کا دفتر گھر سے 7 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے میرا دفتر آنا جانا ایک مسئلہ بن گیا تھا کیونکہ وبا کی وجہ سے کار شیئرنگ ممکن نہیں تھی اور پبلک ٹرانسپورٹ کو استعمال کرنا محفوظ نہیں تھا۔ 27 سالہ نسرین اکیلی نہیں ہیں جو وبا سے بچنے کے لیے سائیکل کا استعمال کر رہی ہیں بلکہ بہت سے لوگ اسے محفوظ سمجھ کر اپنا رہے ہیں۔فارماسوٹیکل کمپنی کے مینیجرعمران احمد کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس دو آپشنز تھے کہ میں موٹر سائیکل خریدوں یا سائیکل۔ میں نے سائیکل کا انتخاب کیا کیونکہ یہ ماحول دوست بھی اور سستی بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے دفتر کی طرف سے پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دی گئی ہے لیکن انہوں نے سائیکل پر جانا اس لیے مناسب سمجھا کیونکہ اس سے ورزش بھی ہوتی ہے۔اس رجحان سے سائیکل فروخت کرنے والوں کو بھی فائدہ ہو رہا ہے کیونکہ سائیکل کی خریداری بڑھ گئی ہے۔ سائیکلوں کی دکان کے مالک ہومان کبیر کا کہنا تھا کہ حالیہ ہفتوں میں سائیکل کی فروخت تین گنا بڑھی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے ان کے خریدار زیادہ تر نوجوان تھے لیکن اب 25 سے 60 برس کی عمر کے افراد بھی سائیکل خرید رہے ہیں۔بنگلہ دیش سائیکلسٹ گروپ کے رضاکار فواد احسن کا کہنا تھا کہ سائیکل پہلے غریب طبقے کی سواری سمجھی جاتی تھی لیکن اب رجحان بدل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سائیکل فروخت کرنے والوں کے لیے اس کی طلب کو پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے کیونکہ وبا کی وجہ سے درآمد بھی متاثر ہوئی ہے۔فواد احسن نے بتایا کہ ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لیے ڈھاکہ کے کچھ علاقوں میں نئی بائیک شیئرنگ سروس شروع ہوئی ہے اور اب لوگ سائیکل کرائے پر بھی لے سکتے ہیں۔ مغربی ممالک میں بہت سے لوگ صحت کی بہتری اور ماحول کو صاف رکھنے کے لیے سائیکل کا استعمال کرتے ہیں۔ وبا کی وجہ سے ہمیں بھی موقع ملا ہے کہ ہم اس اچھی عادت کو اپنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)


گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…