منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وبا سے بچنے کے لیے لوگوں نے سائیکل پر سواری شروع کر دی

datetime 23  جون‬‮  2020 |

ڈھاکا(این این آئی)بنگلادیش میںکرونا وبا سے بچنے کے لیے لوگوں نے سائیکل پر سواری شروع کر دی ہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق کورونا وائرس کی وبا پھیلنے سے پہلے ڈھاکا میں رہنے والی 27 سالہ نسرین نیپا کے لیے کار پول کر کے دفتر جانا کوئی مسئلہ نہیں تھا لیکن سماجی فاصلہ برقرار رکھنے کے لیے اب کار پر جانا ٹھیک نہیں تو انہوں نے اس کا حل نکال لیا ہے اور دفتر جانے کے لیے

سائیکل کا استعمال شروع کر دیا ہے۔نسرین، جو ڈھاکہ میں اشتہاری کمپنی میں کام کرتی ہیں، نے بتایا کہ ان کا دفتر گھر سے 7 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے میرا دفتر آنا جانا ایک مسئلہ بن گیا تھا کیونکہ وبا کی وجہ سے کار شیئرنگ ممکن نہیں تھی اور پبلک ٹرانسپورٹ کو استعمال کرنا محفوظ نہیں تھا۔ 27 سالہ نسرین اکیلی نہیں ہیں جو وبا سے بچنے کے لیے سائیکل کا استعمال کر رہی ہیں بلکہ بہت سے لوگ اسے محفوظ سمجھ کر اپنا رہے ہیں۔فارماسوٹیکل کمپنی کے مینیجرعمران احمد کا کہنا تھا کہ ہمارے پاس دو آپشنز تھے کہ میں موٹر سائیکل خریدوں یا سائیکل۔ میں نے سائیکل کا انتخاب کیا کیونکہ یہ ماحول دوست بھی اور سستی بھی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کے دفتر کی طرف سے پک اینڈ ڈراپ کی سہولت دی گئی ہے لیکن انہوں نے سائیکل پر جانا اس لیے مناسب سمجھا کیونکہ اس سے ورزش بھی ہوتی ہے۔اس رجحان سے سائیکل فروخت کرنے والوں کو بھی فائدہ ہو رہا ہے کیونکہ سائیکل کی خریداری بڑھ گئی ہے۔ سائیکلوں کی دکان کے مالک ہومان کبیر کا کہنا تھا کہ حالیہ ہفتوں میں سائیکل کی فروخت تین گنا بڑھی ہے۔انہوں نے کہا کہ پہلے ان کے خریدار زیادہ تر نوجوان تھے لیکن اب 25 سے 60 برس کی عمر کے افراد بھی سائیکل خرید رہے ہیں۔بنگلہ دیش سائیکلسٹ گروپ کے رضاکار فواد احسن کا کہنا تھا کہ سائیکل پہلے غریب طبقے کی سواری سمجھی جاتی تھی لیکن اب رجحان بدل رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ سائیکل فروخت کرنے والوں کے لیے اس کی طلب کو پورا کرنا مشکل ہو رہا ہے کیونکہ وبا کی وجہ سے درآمد بھی متاثر ہوئی ہے۔فواد احسن نے بتایا کہ ڈیمانڈ کو پورا کرنے کے لیے ڈھاکہ کے کچھ علاقوں میں نئی بائیک شیئرنگ سروس شروع ہوئی ہے اور اب لوگ سائیکل کرائے پر بھی لے سکتے ہیں۔ مغربی ممالک میں بہت سے لوگ صحت کی بہتری اور ماحول کو صاف رکھنے کے لیے سائیکل کا استعمال کرتے ہیں۔ وبا کی وجہ سے ہمیں بھی موقع ملا ہے کہ ہم اس اچھی عادت کو اپنائیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…