منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

جہانگیرترین، اسد عمر، شاہ محمودقریشی کی لڑائیوں نے کیسے عمران خان کو نقصان پہنچایا؟جہانگیرترین اور اسد عمر ایک دوسرے کیخلاف کیا کیاکرتے رہے؟ فوادچوہدری نے تحریک انصا ف میں لڑائیوں سے پردہ اٹھادیا،تہلکہ خیز انکشافات

datetime 23  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چودھری نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت عوام کی توقعات پر اس قدر پورا نہیں اتر سکی جس طرح عوام سوچ رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ پارٹی کے سینئر رہنماؤں جیسے اسد عمر، جہانگیر ترین اور شاہ محمود قریشی کی ذاتی لڑائیوں کے باعث ٹیکنو کریٹس اور بیوروکریٹس کو موقع ملا اور سیاسی میدان سے منتخب ہوکر آنے والے لوگ نظر انداز ہوئے۔فوادچودھری نے مزیدکہا کہ پہلے جہانگیر ترین نے وزیراعظم کے سامنے مخالفت کر کے اسد عمر کو وزارت سے ہٹوایا پھر واپس آ کر اسد عمر نے جہانگیر ترین کو ہی فارغ کرادیا، اسی طرح شاہ محمود قریشی کی دیگر سیاسی ورکرز کے ساتھ ہونے والی مخالفت بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، انہوں نے کہا کہ اس لڑائی میں عمران خان کی بنیادی ٹیم ہل کر رہ گئی جس کے باعث ان لوگوں کو موقع ملا جو سیاست سے نہیں بلکہ کچھ اور ایجنڈا لائے تھے ۔ان کا کہنا تھا کہ الیکشن سے پہلے نتھیاگلی میں عمران خان کے ساتھ بہت وقت گزارا اور محسوس کیا کہ وہ اس سسٹم کو بدلنا چاہتے ہیں اور ریفارمز کے حوالے سے ان کا نظریہ بہت مضبوظ اور واضح تھا۔ان ریفارمز اور سسٹم کو بدلنے کے لیے ایک ٹیم منتخب کی گئی مگر ان آپس کے جھگڑوں میں وہ ٹیم بکھر گئی جس نے ان آئیڈیاز کو نافذ العمل کرانا تھا اس حکومت نے اگر کوئی اہداف حاصل نہیں کیے تو اس کی سب سے بڑی وجہ یہی ہے۔وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ ایسے ٹیکنوکریٹس اور دیگر لوگوں کے آنے سے منتخب ہوکر پارلیمان میں پہنچنے والے لوگ منہ دیکھتے رہ گئے اور عوام کے نمائندوں کو موقع نہ ملنے کے باعث حکومت اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی ۔

ایک سوال کے جواب میں فواد چودھری نے کہا کہ پارٹی کی اندرونی لڑائیوں کی وجہ سے وزیراعظم کا ویژن سامنے نہیں آسکا کیونکہ سیاسی ورکرز کو نظر انداز کرنے سے پارٹی کا امیج خراب ہوا اور بیوروکریٹس کو ترجیح دی گئی، فوادچودھری کا مزیدکہنا تھا کہ تحریک انصاف کی حکومت اسلام آباد دھرنے میں پارٹی ورکرز پر درج ہونے والے مقدمات سے آج تک ان نوجوانوں کی جان نہیں چھڑا سکی۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت پولیس اور عدلیہ میں مطلوبہ ریفارمز نہیں کر سکی اس لیے اس حکومت کا گزشتہ حکومتوں سے کوئی زیادہ فرق نہیں ہے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…