ہفتہ‬‮ ، 26 ستمبر‬‮ 2026 

’’کروناوائرس، اگست میں اسپتالوں پر دباؤ عروج پر ‘‘ جولائی میںمریضوں کی تعداد 4لاکھ تک جبکہ اگست میں تعداد کتنے لاکھوں  تک پہنچ جائے گی؟عالمی ماہرین کی خوفناک پیش گوئی، انتباہ جاری

datetime 22  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)امریکی یونیورسٹی میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے ایک ماڈل کے مطابق اگر حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤن کا موجود ہ سلسلہ جاری رہا تو پاکستان میں 19 جولائی تک کورونا مریضوں کی تعداد چار لاکھ 73 ہزار اور 19 اگست تک 10 لاکھ 86 ہزار سے زائد ہوگی، جبکہ مرنےوالوں کی تعداد 19 جولائی تک 9 ہزار 800 کےقریب اور 19 اگست تک یہ تعداد 22 ہزار کے

قریب پہنچنے کا خدشہ ہے۔کورونا کے مریضوں کے حوالے سے پیشگوئی سے متعلق ایم آئی ٹی سے تعلق رکھنےوالے ایک آزاد تحقیق دان یو یانگ گو (YOUYANG GU) کے ماڈل اور اعداد و شمار بھی حقیقت سے قریب ترقرار دیے جاتے ہیں اور امریکی حکومت بھی فیصلوں میں ان اعداد و شمار کا خیال رکھتی ہے۔اس ماڈل کے مطابق اگر جولائی کے اختتام تک حکومت نے پابندیوں پر سختی سے عمل کروایا، ساٹھ فیصد تک آبادی سماجی دوری کے اصولوں پر عمل کرنے لگے اور کورونا ٹیسٹنگ کی صلاحیت 10 لاکھ میں سے 25 ، 35 فیصد تک کردی گئی تو 19 جولائی تک پاکستان میں کیسز کی تعداد 4 لاکھ 53 ہزار سے زائد اور 19 اگست تک 9 لاکھ 10 ہزار سے زائد ہوگی، جبکہ مرنےوالوں کی تعداد 19 جولائی تک ساڑے 8 ہزار سے زائد اور 19 اگست تک 16 ہزار سے زائد ہوسکتی ہے۔امپیریئل کالج آف لندن کے بنائے گئے ماڈل کےتحت 19 جولائی تک پاکستان میں کیسز کی تعداد ساڑھے چار لاکھ سے زائد اور انیس اگست تک 13 لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد ہوسکتی ہے، جبکہ 19 جولائی تک مرنےوالوں کی تعداد ساڑھے 8 ہزار سے زائد اور 19 اگست تک یہ تعداد 16 ہزار سے زائد ہوسکتی ہے۔کورونا مریضوں کی ممکنہ تعداد کے حوالے سے پاکستان کے تین محقیقین نے بھی ایک ماڈل بنایا ہے، سو روزہ ماڈل کے مطابق اگر ملک میں احتیاط نہیں کی گئی تو اگست کے اختتام تک بغیر علامات والے کورونا مریضوں کی تعداد ایک کروڑ 30 لاکھ سے زائد، ہلکی علامات والے مریضوں کی تعداد تین کروڑ سے زائد، کورونا وائرس سے شدید متاثر ہونےوالوں کی تعداد 60 لاکھ اور اموات کی تعداد 7 لاکھ 60 ہزار کےقریب ہوسکتی ہے، تاہم تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اگرحکومت نےسختی سے ایس او پیز پر عمل کروایا تو یہ اعداد و شمار 30 فیصد کم ہوسکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…