منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس کے تشویش ناک مریضوں میں ہو شربا اضافہ،3 بڑے ہسپتالوں کے آئی سی یوز بھر گئے

datetime 21  جون‬‮  2020 |

پشاور (آن لائن) کرونا وائرس کے تشویش ناک مریضوں میں ہو شرباء اضافہ کے بعد شہر کے تینوں بڑے ہسپتالوں کے آئی سی یوز بھر گئے ہیں جبکہ پرائیویٹ ہسپتالوں میں مزید کرونا کے مریضوں کے داخلے پر عارضی پابندی عائد کی گئی ہے۔ ایل آر ایچ، کے ٹی ایچ، ایچ ایم سی میں خوفناک صورتحال پیدا ہو گیا ہے محکمہ صحت کے ذرائع کے مطابق ایل آر ایچ، کے ٹی ایچ اور ایچ ایم سی میں سیریز مریضوں کو

آئی سی یو بیڈز و وینٹی لیٹرز کے حصول کے لئے شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑ رہاہے۔ ایل آر ایچ،کے ٹی ایچ، ایچ ایم سی، سیدو میڈیکل ہسپتال، ابیٹ آبادٹیچنگ ہسپتال میں بھی مریضوں کے لئے جگہ نہ ہونے کے برابر ہے پشاور کے چھوٹے ہسپتال کی صورتحال پہلے سے ابتر ہے ذرائع کے مطابق بعض ہسپتالوں میں کرونا وائرس کے شکار ہونے والے مریضوں کو ایمر جنسی میں رکھا جاتا ہے کیونکہ بیڈز کی کمی ہے صوبائی دارلحکومت پشاو رسمیت صوبے بھر میں کرونا وائرس مسلسل شہریوں کی غفلت کے باعث اضافہ ہو رہاہے۔ کرونا وائرس کے باعث ایل آر ایچ، کے ٹی ایچ اور ایچ ایم سی میں کرونا و ائرس کے مریضوں کے لئے جگہ کم پڑ گئی ہے جس کے باعث ڈاکٹرز، نرسز اور شہریوں کے درمیان بیڈز کے حصول کے لئے تکرار کے واقعات بھی رونماء ہو رہے ہیں۔ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لئے ایس او پیز پر بھی عمل درآمد نہیں ہو رہا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں کرونا مریضوں کے لئے بیڈ اور وینٹی لیٹر کم ہونے کے باعث مریضوں اور ان کے لواحقین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں وینٹی لیٹر کی کمی کے باعث پرائیویٹ ہسپتالوں کی طرف مریض رخ کر رہے ہیں۔ تاہم پرائیویٹ ہسپتال میں بھی درجنوں مریض ویٹنگ لسٹ پر ہے۔ کرونا وائرس میں خوفناک حد تک پشاور میں اضافہ ہورہاہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتالوں میں صورتحال انتہائی ابتر ہے۔ وینٹی لیٹر کی

شدید کمی کے باعث بیشتر ہسپتالوں کی انتظامیہ کی جانب سے محکمہ صحت سے رابطہ کیا گیا ہے۔ بیشتر سرکاری ہسپتالوں میں آکسیجن سلنڈر بھی کم پڑ گئے ہیں پرائیویٹ ایمبولینسز گاڑیوں میں بھی کرونا مریضوں کی آمد و رفت میں مطلوبہ سہو لیات نہ ہونے کے باعث بھی بیشتر مریض راستے میں دم توڑ دیتے ہیں۔ کرونا مریضوں کی تعداد میں اضافہ اور سہو لیات نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تاہم محکمہ صحت نے اس کی سختی سے تردید کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…