منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

برطانیہ میں کورونا سے سیاہ فام اور مسلمانوں کے مرنے کی شرح بڑھ گئی 15مئی تک کا حیران کن ڈیٹا سامنے آگیا

datetime 21  جون‬‮  2020 |

لندن (این این آئی)برطانوی اعداد و شمار کے مطابق انگلینڈ اور ویلز میں کورونا وائرس سے مسلمانوں، یہودیوں، ہندوؤں اور سکھوں کے مرنے کی شرح عیسائیوں اور ایسے افراد کے مقابلے میں زیادہ ہے جن کا کوئی مذہب نہیں ہے۔عرب ٹی وی نے برطانوی شماریات آفس کے تازہ ترین اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا ہے کہ سیاہ فام اور دیگر اقلیتی گروپوں میں وبا سے اموات کی شرح سفید فام افراد سے زیادہ ہے۔

برطانوی شماریات آفس کے مارچ کے آغاز سے 15 مئی تک کے ڈیٹا سے ظاہر ہوتا ہے کہ کورونا سے مسلمانوں کی شرح اموات کسی بھی دوسرے اقلیتی گروپ سے زیادہ ہے۔مسلمانوں کے بعد یہودیوں، ہندوؤں اور سکھوں میں بھی وائرس سے مرنے کی شرح زیادہ دیکھی گئی ہے۔اس رپورٹ سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مختلف نسل کے افراد میں کورونا کی وبا سے مرنے کی شرح بھی مختلف ہے۔اموات کی شرح میں فرق کی وجہ مختلف مذہبی گروپوں کے رہن سہن کے طور طریقوں کا مختلف ہونا ہے، مثال کے طور پر ان گروپوں کے معاشی اور معاشرتی حالات، ثقافت اور دیگر عادات اور رسوم و رواج بھی ایک دوسرے سے الگ ہیں۔برطانوی شماریات آفس میں لائف ایونٹس کے سربراہ نِک سٹرائپ کا کہنا ہے کہ یہودی مردوں میں وائرس سے مرنے کا خطرہ عیسائی مردوں کے مقابلے میں دو گنا ہے۔ اسی طرح یہودی خواتین میں بھی یہ خطرہ زیادہ پایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اس معاملے کی وضاحت کے لیے مزید تحقیق کی بھی ضرورت ہے۔رپورٹ کے مطابق مسلمان مردوں میں اموات کی یہ شرح ایک لاکھ میں 98 اعشاریہ نو فیصد اور مسلمان خواتین میں 98 اعشاریہ 2 فیصد ہے۔اس کے مقابلے میں برطانیہ میں ( 2011 کی مردم شماری کے مطابق) وہ افراد جو کہتے ہیں کہ ان کا کوئی مذہب نہیں ان میں اموات کی شرح ایک لاکھ میں سے 80 اعشاریہ 7 فیصد جبکہ خواتین میں 47 اعشاریہ 9 فیصد ہے۔یہ رپورٹ اس قسم کے دیگر اعداد و شمار کی بھی تصدیق کرتی ہے جن کے مطابق برطانیہ اور ویلز میں سیاہ فام اور ایشیائی افراد کورونا کی وجہ سے زیادہ خطرے میں ہیں۔  اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ سیاہ فام افراد کے مرنے کی شرح سب سے زیادہ ہے جو کہ ایک لاکھ میں 255 اعشاریہ 7 اموات بنتی ہے جبکہ سفید فام افراد میں یہ شرح ایک لاکھ میں سے 87 اموات بنتی ہے۔اسی طرح سیاہ فام خواتین میں ایک لاکھ میں اموات کی شرح 119 اعشاریہ 8 بنتی ہے جبکہ سفید فام خواتین میں یہ شرح ایک لاکھ میں صرف 52 اموات ہے۔رواں ماہ کے آغاز میں ایک سرکاری سٹڈی کے مطابق سیاہ فام اور ایشیائی افراد کا وائرس میں مبتلا ہونے کے بعد مرنے کا خدشہ 50 فیصد تک ہوتا ہے۔نِک سٹرائپ کے مطابق یہ نمایاں فرق بنگہ دیشی، پاکستانی اور انڈین مردوں میں موجود ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…