منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

وفاق میں حکمران پارٹی کے ایک درجن اور پنجاب میں 20 اراکین اسمبلی بغاوت کیلئے تیار ،بی این پی کی علیحدگی کے بعدپی ٹی آئی حکومت کیلئے صورتحال مزید خراب

datetime 18  جون‬‮  2020 |

اسلام آباد( آن لائن) وفاقی حکومت سے بی این پی کی علیحدگی کے بعد پی ٹی آئی حکومت کے لئے صورت حال مزید خراب ہو گئی ہے۔ مسلم لیگ(ق) جو کہ پہلے ہی تحفظات اور خدشات سے بھری پڑی ہے اس موقع پر اگر حکومت سے الگ ہو گئی تو وزیر اعظم عمران خان کی حکومت اختتام کو پہنچ سکتی ہے ۔

ایم کیو ایم نے بھی تیاریاں شروع کر دیں ۔مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت سے صرف اتحادی جماعتیں ہی ناراض نہیں ہیں بلکہ وفاق میں حکمران پارٹی کے اپنے ایک درجن اراکین اسمبلی اور پنجاب میں 20 اراکین اسمبلی بغاوت کے لئے تیار بیٹھے ہوئے ہیں ۔دوسری طرف عوامی نیشنل پارٹی نے بھی بلوچستان حکومت سے علیحدگی کے لئے سرجوڑ لئے ہیں۔ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پی ٹی آئی کے اہم ترین راہنما جہانگیر ترین ناراض ہو کر لندن روانگی کے بعد وزیر اعظم عمران خان کی حکومت مسلسل گرداب میں دھنستی ہوئی نظر آ رہی ہے ۔ بی این پی مینگل گروپ نے گزشتہ روز دوٹوک علیحدگی کا اعلان کر کے حکومتی کشتی میں پہلا چھید کر دیا ہے جبکہ مسلم لیگ(ق) اور پی ٹی آئی کے درمیان پہلے ہی بہت دوریاں ہیں اور مسلم لیگ( ق) اس حوالے سے وزیر اعظم سے مل کر بھی اور ٹی وی چینلز پر بھی اپنے تحفظات کا اظہار کر چکی ہے اس لئے مقتدر قوت کا اشارہ ملتے ہی مسلم لیگ(ق) اور مسلم لیگ(ن) سارے غم بھلا کر ایک ہو جائیں گے ۔ سیاسی حلقوں کا خیال ہے کہ طاقت کے مرکز کی طرف سے اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف سے ٹیلی فونک رابطے اور کئی غیر ملکی سفیروں کے اپوزیشن لیڈر سے رابطے تبدیلی کی ہوائوں کا پتہ دے رہے ہیں ۔ قابل غور پہلو یہ ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی بھرپور مدد اور تعاون کے باوجود وزیر اعظم عمران خان اپنی ٹیم کے ساتھ اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر سکے بلکہ عوام کو پے درپے مہنگائی ، بے روزگاری اور دبائوں جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑا اور حکومت کسی ایک مسئلے سے نمٹنے میں بھی بری طرح ناکام رہی ہے ۔

وزیر اعظم عمران خان نیا پاکستان بنانے کیلئے اپنے 23 سالہ وعدوں میں سے کسی ایک پر بھی عمل کرنے میں ناکام رہے ۔ معیشت کی بہتری کے لئے اسٹیبلشمنٹ نے وزیر اعظم کی بھرپور معاونت کی لیکن اس کے باوجود وزیر اعظم نے معیشت کو سنبھال سکے اور نہ ہی عوام کی زندگی میں بہتری لا سکے ۔ مصدقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت ، بلوچستان حکومت اور وفاقی حکومت اب صرف ” ایمپائر ” کی خاموشی تک قائم ہیں ٠۔ جیسے ہی ”ایمپائر ” نے اتحادی پارٹیوں کو آزادی کا اشارہ کر دیا تو تبدیلی آ جائے گی ۔ البتہ قسمت کے دھنی عمران خان اسٹیبلشمنٹ کے ذریعے اتحادی پارٹیوں سے مزید کچھ وقت لے سکتے ہیں مگر یہ حقیقت ہے کہ اگر وہ مہلت لے بھی لیں تو قوم کو اس کا کوئی فائدہ نہیں پہنچنے والا ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لندن سے جہانگیر ترین اور میاں نواز شریف کی ملاقات کی خبر بھی آ سکتی ہے جو کہ پی ٹی آئی کے لئے ایک خوفناک پیغام ہو گا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…