اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ہم پردیس میں بہت مشکل میں ہیں، کھانے کے پیسے تک نہیں، سعودی عرب میں مقیم پاکستانی نے روتے ہوئے حکومت سے مدد کی اپیل کر دی

datetime 15  جون‬‮  2020 |

ریاض (مانیٹرنگ ڈیسک) ہم خود کشی کرنے کا سوچ رہے ہیں، خدارا کرایوں میں کمی کرکے ہمیں واپس اپنے ملک لانے کے انتظامات کئے جائیں، سوشل میڈیا پر ایک پاکستانی کی ویڈیو جاری ہوئی ہے جو سعودی عرب میں لاک ڈاؤن کی وجہ سے پھنسا ہوا ہے۔ انہوں نے روتے ہوئے ہاتھ جوڑ کر یہ حکومت سے اپیل کی،

انہوں نے کہا کہ ہمارے کام تین ماہ سے بند ہیں، ہم نے گھروں کے کرائے نہیں دیے جس کی وجہ سے ہم سے گھر خالی کروائے جا رہے ہیں، پاکستانی نے روتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستان واپس نہیں آ سکتے جو ٹکٹ پہلے 800 ریال کی تھی اب وہ 22 سو ریال میں مل رہی ہے، ہمارے پاس کھانے کو پیسے نہیں ہیں، ٹکٹ کے لئے 22 سو ریال کہاں سے آئیں گے۔ پاکستانی نے مزید کہا کہ سنا ہے پاکستا ن پہنچنے کے بعد لوگوں کو قرنطینہ سینٹرز میں رکھا جاتا ہے جس کے الگ سے پیسے لئے جاتے ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستانی حکومت اور یہاں پاکستانی سفارت خانہ ہم سے کسی طرح کا تعاون نہیں کر رہا، ہم جانتے ہیں کہ خود کشی حرام ہے لیکن یہاں مقیم مجھ سمیت بہت سے پاکستانی خود کشی کا سوچ رہے ہیں۔ انہوں نے ویڈیو میں حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ ہم بیوی بچے والے ہیں اس مشکل کی گھڑی میں ہماری مدد کی جائے ہمیں مرنے سے بچایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ پردیس میں ہم بہت مشکل میں ہیں اور پریشان ہیں، کھانے کے پیسے بھی نہیں اور کوئی ادھار دینے کو بھی تیار نہیں ہے انہوں نے پاکستانی حکومت سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ درخواست ہے کہ ٹکٹ میں کمی کرکے ہمیں واپس پاکستان لایا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…