جمعرات‬‮ ، 06 اگست‬‮ 2026 

بجٹ میں سیاسی جماعت کی بجائے آئی ایم ایف سے مشورہ کیا گیا ، سراج الحق نے کورونا وائرس کو بہانہ قرار دیدیا

datetime 14  جون‬‮  2020 |

کراچی ( آن لا ئن ) جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ کورونا وائرس بہانہ ہے، بے روزگاری تو پہلے سے ہو رہی ہے۔ کورونا وائرس سے پہلے ہی غربت میں اضافہ ہو رہا تھا۔ ہمارا خیال تھا کہ اس بجٹ میں حکومت اپنی غلطیوں کو درست کرے گی، حکومت کو بھی اندازہ نہیں کہ کورونا کے بعد ہم کس طرف جائیں گے۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ

اس بجٹ میں غریب آدمی کے لیے کچھ بھی نہیں ہے، حکومت نے ملازمین کے لیے ایک روپے کا بھی اضافہ نہیں کیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے تعلیم کے بجٹ میں کمی کر دی، حکومت نے اس بجٹ میں بے روزگاری ختم کرنے کے لیے کچھ نہیں کیا۔امیرِ جماعتِ اسلامی کا کہنا ہے کہ اس بجٹ میں ہیلتھ اور فوڈ سکیورٹی کے لیے کچھ نہیں کیا گیا، کورونا وائرس سے حکومت کو ایک بہانہ اور مل گیا ہے۔ ان کا کہناہے کہ حکومت کو باہر سے کورونا وائرس کی وباء￿ کے نام پر قرضے مل رہے ہیں، پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار شرح نمو منفی آئی ہے۔سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ ہمارے بجٹ میں کورونا کو ڈسکس ہی نہیں کیا گیا، دنیا ایک طرف اور ہم دوسری طرف چل رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں دینی مدارس کے لیے بھی کچھ بھی نہیں رکھا گیا، حکومت نے خود اعتراف کیا ہے کہ ایک کروڑ 70 لاکھ لوگ بے روزگار ہوں گے۔جماعتِ اسلامی پاکستان کے امیر کا کہنا ہے کہ حکومت نے ان بے روزگار افراد کے لیے بجٹ میں کچھ نہیں رکھا۔ انہوں نے کہا کہ اس بجٹ سے بلوچستان کے عوام مایوس ہوئے ہیں، موجودہ بجٹ کو ہم نہیں مانتے، جس میں عوام کو کچھ نہی ملا ہے۔سراج الحق نے کہا کہ بجٹ میں بس باتیں ہی کی گئیں، یہ بجٹ صرف باتوں کا پلندہ ہے، اس حکومت کی کارکردگی صفر ہے، بجٹ میں قبائلی علاقوں کے لیے بھی کچھ نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بار بجٹ میں بس آئی ایم ایف سے مشورہ کیا گیا ہے،

کسی سیاسی جماعت سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔امیرِ جماعتِ اسلامی نے کہا کہ بجٹ پیش ہوا اور مہنگائی 20 فیصد بڑھ گئی، اس بجٹ میں این ایف سی بھی نہیں دیا گیا، ہم وفاق کے اس بجٹ کو منظور نہیں کرتے۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کے بجٹ میں کمی کی گئی، اسٹیل مل کے ملازمین سے نوکریاں چھین لی گئیں، بڑی تعداد میں لوگ بے روزگار ہوگئے ہیں۔امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے مزید کہا کہ افسوس ہے کہ ہماری حکومت اب بھی آئی ایم ایف کی طرف دیکھ رہی ہے، حکومت موجودہ بجٹ پر نظرِ ثانی کرے۔انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ حالات کا تقاضہ ہے کہ میثاقِ پاکستان بھی ہو، بجٹ کا پہلا حصہ عوام، دوسرا حصہ ترقی اور تیسرا حصہ انتظامی اخراجات پر مشتمل ہو۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…