اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

ڈاکٹرکرونا مریضوں کا غلط طریقے سے علاج کررہے ہیں، نئی تحقیق میں اہم انکشافات

datetime 8  جون‬‮  2020 |

واشنگٹن(این این آئی)طبّی ماہرین نے نئی تحقیق کے بعد انکشاف کیا ہے کہ کرونا وائرس صرف نظام تنفس کی بیماری نہیں ہے بلکہ یہ خون کی شریانوں کی بھی بیماری ہے۔اس نئی تحقیق سے اس امر کی وضاحت میں مدد مل سکتی ہے کہ کووِڈ19کے مریضوں کو دل کے دورے کا کیوں سامنا ہورہا ہے۔

خون کے لوتھڑے کیوں جمع ہورہے ہیں اور اس طرح کی دوسری علامات کیوں ظاہر ہورہی ہیں۔اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اس وقت کرونا کی بیماری کا غلط طریقے سے علاج کیا جارہا ہے۔نئے کرونا وائرس سے لاحق ہونے والی بیماری کووِڈ19 کو اب تک نظام تنفس کی بیماری ہی قرار دیا جاتارہا ہے کیونکہ اس سے بنیادی طور پر پھپیھڑے متاثر ہوتے ہیں اور اس کا شکار شخص بالکل اسی طرح موت کے مْنہ میں چلا جاتا ہے جس طرح نمونیا کا مریض دم توڑ دیتا ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق ڈاکٹروں کا نئے شواہد کی بنا پر یہ کہنا ہے کہ کرونا وائرس اب شریانوں کو متاثر کرنے والی بیماری بھی ہے اوراس کی علامات بڑھتی جارہی ہیں۔ایک محقق ماہر ڈاکٹر ولیم لی کا کہناتھا کہ کووِڈ سے متعلق یہ تمام پیچیدگیاں ایک سربستہ راز تھیں۔ہم نے خون کے لوتھڑے دیکھے ہیں،گردوں کو نقصان ملاحظہ کیا ہے۔قلب میں حرارت مشاہدہ کی ہے،مریضوں کو دل کا دورہ پڑتے دیکھا ہے اور دماغ میں سوجن بھی دیکھی ہے۔اگر کووِڈ19 شریانوں کو متاثر کرتی ہے تو اس سے اس امر کی بھی وضاحت ہوجاتی ہے کہ پہلے سے ذیابطیس ، بلند فشار خون اور دل کی بیماریوں میں مبتلا مریض کیوں اس وائرس کا زیادہ تعداد میں شکار ہورہے ہیں۔اگرنئی تحقیقات کی روشنی میں کرونا وائرس کی از سرنو درجہ بندی کی جاتی ہے تو پھر سائنس کمیونٹی کی اس بیماری کے بارے میں حکمت عملی میں بھی تبدیلی رونما ہوگی اور اس سے اس کے علاج کی نئی راہیں تلاش کرنے میں مدد ملے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…