سانگلہ ہل(آن لائن)سانگلہ ہل کوٹلہ کاہلواں میں خاوند نے گھریلو رنجش پر بھائی کی مدد سے اپنی بیوی کو زہر یلا کیمیکل پلا کر مار ڈالامقتولہ نورین بی بی کے خاوند نے پولیس کے ساتھ ساز باز ہو کر نورین کو بغیر پوسٹمارٹم کرائے دفن کر دیا پولیس ملزمان کی ساتھی بن گئی 5ماہ گزرنے کے باوجود بھی ملزمان کے خلاف مقدمہ درج نہ ہوسکا مقتولہ کی بہن نسیم بی بی نے اندراج مقدمہ اور قبر کشائی کیلئے عدالت میں رٹ دائر کر دی
عدالت نے رپورٹ طلب کر لی۔تفصیل کے مطابق سانگلہ ہل کی آبادی خان دورہ کے رہائشی محمد امین کی بیٹی نورین بی بی کی شادی کالیکی کے رہائشی ذوالفقار علی کے بیٹے ریاست علی سے انجام پائی گھر میں اکثر لڑائی جھگڑا رہنے سے نورین بی بی کا خاوند ریاست علی علیحدہ ہو کر اسے کوٹلہ کاہلواں لے گیا جہاں پر بھی دونوں میاں بیوی کے درمیان لڑائی جھگڑا اکثر معمول بنا رہااس دوران ان کے ہاں ایک بیٹا پیدا ہوا کہ اس کے خاوند نے گھریلو جھگڑے سے تنگ آکر اپنے بھائی سے مل کر اپنی بیوی نورین کو زہریلا کیمیکل پلا دیا اور حالت غیر ہونے پر اسے ہسپتال لے گیا جہاں پر وہ جانبحق ہوگئی مقتولہ کے خاوند نے قانونی گرفت سے بچنے کیلئے تھانہ صدر شاہکوٹ پولیس سے ساز باز ہوکر بغیر پوسٹمارٹم کئے مقتولہ کو اس کے آبائی گاؤں خان دورہ میں دفن کر دیا بعد ازاں گھر والوں کو شک ہونے پر مقتولہ کے لواحقین بیٹی کے قتل کا مقدمہ درج کروانے کیلئے تھانہ صدر شاہکوٹ پہنچ گئے پولیس ملزمان کی ساتھی بن گئی مقتولہ کے وارثان کو ٹال مٹول کرتے رہے اور مقدمہ درج نہ کیا جس پر مقتولہ کی بہن نسیم بی بی نے اندراج مقدمہ اور قبر کشائی کیلئے عدالت میں رٹ دائر کر دی عدالت نے پولیس سے رپورٹ طلب کر لی مقتولہ کی بہن نسیم بی بی اتحاد پریس کلب سانگلہ ہل میں میڈیا کو بتایا کہ میری بہن کو اس کے خاوند اور بھائی نے زہر دے کر قتل کر دیا ہے پولیس ملزمان کی سر پرست بنی ہوئی ہے اور ملزمان مجھے دھمکیاں دے رہیں کہ عدالت سے رٹ واپس لے لیں ورنہ تمہیں بھی قتل کر دیا جائے گا نسیم بی بی نے وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی پنجاب سے انصاف کی اپیل کی ہے۔



















































