اسلام آباد (آن لائن)وفاقی حکومت نے سرحدوں کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے مسلح افواج کی تمام دفاعی ضروریات کو پورا کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ افواج پاکستان کے جوانوں کیلئے تنخواہوں میں خصوصی اضافے کی سفارشات کا بھی جائزہ لیا جارہا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پاکستان نے آئی ایم ایف پر واضح کردیا ہے کہ موجودہ حالات میں دفاعی بجٹ پر کسی صورت کمی نہیں کی جاسکتی کیونکہ رواں مالی سال میں دفاعی بجٹ میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیاگیا تھا۔ بھارت کی جانب سے مسلسل لائن آف کنٹرول پر جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں جاری ہیں مغربی سرحدوں کی صورتحال پر سلامتی کو یقینی بنانے کیلئے بھی فنڈز درکار ہیں اس لئے آئندہ مالی سال میں افواج پاکستان کو ان کی ضروریات کے مطابق بجٹ فراہم کیاجائیگا جو کہ 14سو ارب روپے سے زائد ہوگا۔ ذرائع کے مطابق رواں مالی سال میں دفاعی بجٹ کو 12سو ارب تک محدود کیاگیا تھا لیکن اب پاک فوج،پاک فضائیہ اور پاک بحریہ کو ان کی ضروریات پورا کرنے سے متعلق وسائل کے اندر رہتے ہوئے فنڈز فراہم کئے جائینگے تاکہ افواج پاکستان نے جو خریداریاں کرنی ہیں وہ کی جاسکیں اور آپریشنل ضروریات کو بھی پورا کیاجاسکے اس حوالے سے جوائنٹ سٹاف ہیڈکوارٹرز اور وزارت دفاع کی جانب سے ڈیمانڈز وزارت خزانہ کو پہلے ہی موصول ہوچکی ہیں جبکہ افواج پاکستان کیلئے تنخواہوں میں خصوصی اضافے اور الاؤنسز سے متعلق معاملہ بھی زیر غور ہے اس معاملے کو وفاقی کابینہ سے بھی منظور کرایا جائیگا۔



















































