منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

صنعت اور کمرشل بجلی کے صارفین اور گھریلو صارفین کے لئے علیحدہ علیحدہ اعلان،ریلیف کے نام پر گھریلو صارفین سے دھوکہ، ملک بھر میں حکومت کا دوہرا معیار سامنے آ گیا

datetime 28  مئی‬‮  2020 |

لاہور(این این آئی) وفاقی حکومت نے کورونا وائرس کی وجہ سے گھریلو صارفین کو ریلیف کے نام پر دھوکہ دے دیا۔ کمرشل و صنعتی صارفین کو تین ماہ کا بل معاف جبکہ گھریلو صارفین کو اقساط کی صورت میں ادائیگی کرنا ہو گی۔تفصیلات کے مطابق وفاقی حکومت کا گھریلو، کمرشل اور صنعتی صارفین کے لئے دوہرا معیار سامنے آ گیا ہے۔ کمرشل و صنعتی صارفین کو تین ماہ کے بل معاف لئے گئے ہیں جبکہ گھریلو صارفین کو ادا کرنا ہوں گے۔

کورونا وائرس سے متاثرہ کمرشل اور صنعتی صارفین کے بجلی کے بل معاف کر دیئے گئے جن مین پانچ کلو واٹ سے لیکر ستر کلو واٹ تک بجلی استعمال کرنے والے صارفین تین ماہ بل ادا نہیں کریں گے۔ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ سال کے یونٹس کے مطابق حکومت مئی, جون اور جولائی کے اربوں روپے کے بل ادا کرے گی لیکن کورونا وائرس سے متاثرہ گھریلو صارفین کو بجلی کے بل معاف نہیں کئے گئے۔ گھریلو صارفین کو صرف اقساط کی صورت میں بل ادا کرنے کی سہولت دی گئی ہے۔لیسکو مین تین سو یونٹ تک بجلی استعمال کرنے والوں کو اقساط کی سہولت دی گئی ہے جس کو وزیر اعظم ریلیف کا نام دیا جا رہا ہے۔ قبل ازیں حکومت نے صارفین کے لیے ریلیف پیکج جاری کیا اور بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو عملدرآمد کی ہدایت بھی کی۔ حکومت نے پانچ کلو واٹ سے لیکر ستر کلو واٹ تک کمرشل و صنعتی صارفین کوریلیف دینے کا فیصلہ کیا تھا۔کمرشل صارفین کے لئے ایک لاکھ تک بل جبکہ صنعتی صارفین کا چار لاکھ پچاسی ہزار روپے تک کا بل بھی حکومت کی جانب سے ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی گئی تھی۔ کہا گیا تھا کہ گزشتہ سال کے مطابق استعمال ہونے والے یونٹس پر بل ادا کیے جائیں گے جبکہ رواں سال زائد یونٹ استعمال کرنے والوں کو اضافی بل خود ادا کرنا ہوگا۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…