اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس ، چین نے ووہان میں تمام جنگلی جانوروں کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کر دی

datetime 21  مئی‬‮  2020 |

بیجنگ(این این آئی)عالمی وبا کورونا وائرس کے مرکز چین کے شہر ووہان میں جنگلی جانوروں کا گوشت کھانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔برطانوی میڈیا کے مطابق ووہان میں سرکاری طور پر جنگلی جانوروں کا شکار اور ان کو کھانے پر پابندی عائد کردی گئی ہے جو سائنسی تحقیق، وبائی امراض اور دیگر حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے کی گئی ہے۔

یہ اقدام ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ووہان میں چند روز قبل دوبارہ سے کورونا وائرس کے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔یاد رہے کہ کورونا وائرس کا آغاز چین کے شہر ووہان میں قائم جنگلی جانوروں کی مارکیٹ سے ہوا تھا جہاں پر چمگادڑوں سمیت کئی جانوروں کو فروخت کیا جاتا ہے جس سے یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ یہ وائرس چمگادڑوں اور چوہوں وغیرہ کے ذریعے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔بعدازاں چین کی اعلی قانون ساز کمیٹی نے چین میں تمام تر وائلڈ لائف کی تجارت اور انہیں بطور خوراک استعمال کرنے پر پابندی عائد کرنے پر غور کیا جس کے بعد ان جانوروں کی خرید و فروخت پر مکمل پابندی عائد کردی گئی، چین میں ان جانوروں کو ہی قاتل کورونا وائرس کے پھیلنے کا اہم سبب قرار دیا جارہا ہے۔ابھی تک یہ بات غیر تصدیق شدہ ہے کہ کورونا وائرس کے پھیلنے کا اصل سبب کیا ہے۔ اس سے متعلق سائنس دانوں کی مختلف قیاس آرئیاں ہیں کہ یہ چمگادڑ، پینگولن یا اس جیسے دوسرے جانوروں سے پھیلا ہے۔سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ سارس وائرس چمگادڑوں میں ابھرا تھا، اس کے بعد یہ مشک بلا کے ذریعے سے انسانوں میں منتقل ہوا۔چین کی مارکیٹوں میں مشک بلا، چمگادڑ، سانپ، چھپکلی نما جانور اور زندہ بھیڑیے کے بچے ملتے ہیں جنہیں لوگ بطور خوراک استعمال کرتے ہیں۔واضح رہے کہ چین میں کورونا وائرس سے اب تک 82 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوچکے ہیں اور 4 ہزار 634 افراد ہلاک بھی ہوچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…