اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

طالبان کے سپریم لیڈر کا مخالفین کیلئے عام معافی کا اعلان ،عید سے پہلے حیرت انگیز ویڈیو پیغام جاری

datetime 21  مئی‬‮  2020 |

پشاور( آن لائن ) افغان طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے دشمنی ترک کرنے کی شرط پر مخالفین کیلئے عام معافی کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ معاشرے کے ہر مرد و عورت رکن کو اس کا حق دیا جائے گا۔عید الفطر سے قبل ایک پیغام جاری کرتے ہوئے طالبان رہنما نے خاص طور پر کہا کہ ’اسلامی امارات‘ کی اجارہ داری کی پالیسی نہیں اور یقین دہانی کروائی کہ افغان معاشرے کے ہر مرد و عورت کو اس کے حقوق دیے جائیں گے تا کہ کسی کو محرومی یا نا انصافی کا احساس نہ ہو۔

بیان میں کہا گیا کہ ’معاشرے کی بہبود، استحکام اور ترقی کے لیے ضروری تمام کام شریعت کی روشنی میں کیے جائیں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے مخالفین کے لیے اس صورت میں عام معافی کا اعلان بھی کیا کہ اگر وہ دشمنی ترک کردیں۔طالبان قائد نے کہا کہ ’ہم ہر ایک پر زور دیتے ہیں کہ ’اپنی مخالفت ترک کر کے معافی سے مکمل فائدہ اٹھائیں اور ایک اسلامی حکومت کے قیام میں رکاوٹ نہ بنیں جو لاکھوں، شہدا، زخمیوں، معذوروں، یتیموں، بیواؤں اور مشکلات کا شکار افغانوں کی خواہش ہے۔طالبان تحریک کی خارجہ پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ خطے اور دنیا کے ممالک کے ساتھ ’اسلامی امارات‘ کے سیاسی تعلقات ماضی کے مقابلے وسیع ہوئے ہیں۔ملا ہیبت اللہ کا کہنا تھا کہ ’ہماری پالیسی کی بنیاد پر ہم اسلامی ممالک سے برادرانہ، پڑوسیوں کے ساتھ ہمسائیگی اور خطے اور دنیا کے تمام ممالک کے ساتھ تعمیری تعلقات چاہتے ہیں۔ امریکا کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ قبضے کے خاتمے کا نتیجہ اسلامی امارات کے لیے ایک غیر معمولی کامیابی ہے اور اگر اس پر خلوص نیت سے عمل ہوا تو سب کے فائدہ مند ثابت ہوگا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ طالبان امریکا کے ساتھ ہوئے معاہدے پر کاربند ہیں اور فریقین پر زور دیتے ییں کہ اپنے وعدوں پر عمل کریں اور اس اہم موقع کو ضائع نہ ہونے دیں۔

طالبان رہنما کا مزید کہنا تھا کہ ’اس معاہدے پر عملدرآمد امریکا اور ہمارے ملک کے درمیان جنگ کے خاتمے اور ہماری سرزمین پر قیامِ امن اور اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے ایک اہم چیز ثابت ہوگا‘۔ انہوں نے واشنگٹن پر زور دیا کہ طالبان اور امریکا کے مابین ہونے والے اس بین الاقوامی تسلیم شدہ باہمی معاہدے میں رکاوٹ، تاخیر یا اسے ڈی ریل کرنے کا کسی کو موقع نہیں دیا جائے۔انہوں نے کہا کہ کابل انتظامیہ کی جیلوں میں قیدی سخت مشکل حالات کا سامنا کررہے ہیں اور انسانی حقوق کی تنظیموں اور فلاحی گروپس اور کارکنان کو اس سلسلے میں اپنی زمہ داری کو محسوس کرنا اور قیدیوں کی محفوظ اور فوری رہائی کے لیے تمام ضروری اقدامات اٹھانے چاہیئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…