اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

بھارت اور چین میں سرحدی کشیدگی مزید بڑھنے لگی ،لداخ اور شمالی سکم کے مختلف متنازعہ علاقوں پر دونوں ملکوں کی مزید فوج تعینات

datetime 20  مئی‬‮  2020 |

نئی دہلی( آن لائن )لداخ اور شمالی سکم کے مختلف متنازعہ علاقوں پر چین اور بھارت میں کشیدگی بتدریج بڑھنے لگی، دونوں ملکوں نے متنازعہ سرحدی علاقوں میں مزید فوج تعینات کر دی۔چین اور بھارت نے دولت بیگ اولڈی، ڈمچوک کے علاوہ دریائے گلوان اور جھیل پانگونگ تسو جیسے حساس علاقوں میں مزید فوجی دستے تعینات کر دیئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق وادی گلوان میں چینی فوج کے قابل ذکر تعداد میں خیمے دیکھے جا سکتے ہیں، جس کے باعث بھارت نے اس علاقے کی کڑی نگرانی شروع کر دی ہے۔ دونوں ملکوں کے اس جارحانہ رویے کی وجہ درہ لیپولیکھ کو ملانے والی سڑک کی تعمیر پر نیپال کیساتھ بڑھتی کشیدگی ہے۔ بھارتی آرمی چیف منوج موکنڈ نے گزشتہ ہفتے ایک بیان میں نیپال کے اعتراض کو کسی اور کی شہ کا نتیجہ قرار دیا تھا۔بھارتی میڈیا کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں کہ آرمی چیف منوج موکنڈ نیپال کا کب دورہ کریں گے، جبکہ حسب روایت بھارتی آرمی چیف عہدہ سنبھالنے کے فوری بعد نیپال کا دورہ کرتا ہے۔ ان کے پیش رو جنرل بپن راوت نے عہدہ سنبھالنے کے دو ماہ بعد نیپال کا دورہ کیا جہاں انہیں نیپالی فوج کے اعزازی جنرل کا اعزاز دیا گیا۔ بھارتی فوج اور وزارت دونوں نے بڑھتی کشیدگی پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ 9 مئی کو چینی اور بھارتی فوجیوں کے درمیان دست بدست لڑائی پر اپنے ردعمل میں بھارتی وزارت خارجہ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ بھارت چینی سرحد پر امن برقرار رکھنے کے عزم پرقائم ہے۔ چین کے سرکاری میڈیا نے ایک رپورٹ میں کہا کہ چینی فوج نے وادی گلوان اور اکسائی چن میں بارڈر کنٹرول سے متعلق اقدامات مزید سخت کر دیئے ہیں۔ گلوبل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں چینی اقدامات کو بھارت کی جانب سے وادی گلوان میں دفاعی تنصیبات کی غیر قانونی تعمیر کا ردعمل قرار دیا۔ چین نے کالی گنگا کے معاملے کو بھارت اور نیپال کا مسئلہ قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ دونوں ہمسائے یکطرفہ اقدامات سے گریز اور دو طرفہ بات چیت کے ذریعے تمام تنازعات حل کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…