اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

آنے والے دن تاریک ہیں لیکن ۔۔۔ !!! عالمی ادارہ صحت نے پوری دنیا کو خوشخبری سنا دی

datetime 20  مئی‬‮  2020 |

جنیوا (این این آئی)عالمی ادارہ صحت (WHO) نے کرونا وائرس کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی ممالک کے درمیان تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ اب تک دنیا بھر میں اس وبائی مرض کا شکار ہو کر 3.2 لاکھ سے زیادہ افراد اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔ادارے کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈہانوم گیبریسوس کا کہنا ہے کہ تمام تر دستیاب وسائل کو بروئے کار لاتے ہوئے توجہ اس وبا کا مقابلہ کرنے اور لوگوں کی جانیں بچانے پر مرکوز ہو گی۔

انہوں نے یہ بات ورلڈ ہیلتھ سوسائٹی کے دو روزہ اجلاس کے اختتام پر کہی۔اسی طرح گیبریسوس نے منصفانہ صورت میں مناسب قیمتوں پر ویکسین کے حصول کی ضرورت پر بھی زور دیا۔گیبریسوس کا مزید کہنا تھا کہ اس وائرس نے ہمیں یہ یاد دہانی کرائی ہے کہ باہمی اختلافات کے باجود ہم ایک انسانی جنس ہیں اور ہماری قوت ساتھ مل کر کام کرنے سے پروان چڑھتی ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل کے نزدیک آنے والے دن دشوار اور تاریکی کی حامل ہو سکتے ہیں لیکن انہوں نے واضح کیا کہ’’علم کے ذریعے ہم مل کر ان پر قابو پالیں گے۔یاد رہے کہ اقوام متحدہ کے ایک تاریخی اجلاس کے اختتام پر تنظیم کے تمام 194 رکن ممالک نے متفقہ طور پر ایک قرار داد منظور کی تھی۔ یہ قرار داد کوویڈ 19 کی وبا کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر ’’آزادانہ جائزے‘‘ کا مطالبہ کرتی ہے۔اس قرار داد کا منصوبہ 130 ممالک کی جانب سے رواں سال ورلڈ ہیلتھ سوسائٹی کے 73 ویں اجلاس کی کارروائی کے اختتام پر پیش کیا گیا۔ یہ اجلاس کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب ورچوئل طریقے سے منعقد کیا گیا۔سوسائٹی کے 73 ویں اجلاس میں شریک رکن ممالک نے اس بات پر بھی اتفاق رائے کا اظہار کیا کہ مستقبل میں اس وبا کی ویکسین ’’منصفانہ طور سے مناسب قیمتوں‘‘ پر حاصل کیے جانے کی ضرورت ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…