پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

ٹنڈولکر کو آئوٹ کرنے کا افسوس ہے، شعیب اختربدستور بھارتیوں کی خوشنودی میں سرگرم

datetime 19  مئی‬‮  2020 |

لاہور( آن لائن )شعیب اختر بدستور بھارتیوں کی خوشنودی میں سرگرم ہیں،انہوں نے اعتراف کیا کہ ابھی تک ورلڈ کپ 2003 میں سچن ٹنڈولکر کو98پر آئوٹ کرنے کا افسوس ہے،وہ کہتے ہیں کہ میں انہیں اپنے بائونسر پرچھکا لگاتا دیکھنا چاہتا تھا تھا لیکن وہ کیچ دے بیٹھے۔

تفصیلات کے مطابق ایسے وقت میں جب پوری بھارتی برادری شاہد آفریدی کے مقبوضہ کشمیر پر دیئے گئے بیان پر متحد ہوکر پاکستان کے خلاف نفرت آمیز بیانات دے رہی ہے وہیں سابق پاکستانی فاسٹ بالر شعیب اختر بھارت نوازی میں مشغول ہیں۔انہوں نے یہاں تک اعتراف کرلیا کہ وہ ورلڈ کپ 2003 میں سچن ٹنڈولکر کو اپنی ہی ٹیم کے خلاف سنچری سکور کرتا دیکھنا چاہتے تھے۔یاد رہے کہ سنچورین میں کھیلے گئے اس مقابلے میں پاکستان نے سعید انور کی سنچری سے تقویت پاکر 7وکٹوں کے نقصان پر273رنز سکور کیے تھے،جواب میں بھارت نے سچن ٹنڈولکر کے98رنز کی بدولت یہ میچ 6وکٹوں سے جیت لیا تھا،شعیب اختر کو اابھی تک اس بات کا افسوس ہے کہ انہوں نے سچن ٹنڈولکر کو آٹ کیو ں کیا۔ایک انٹر ویو میں انہوں نے کہا کہ مجھے سچن ٹنڈولکر کے98رنز پر آٹ ہونے کا بہت زیادہ افسوس ہوا تھا،وہ ایک خاص اننگز تھی،انہیں سنچری لازمی سکور کرنا چاہیئے تھی اورمیں خود بھی یہی چاہتا تھا کہ وہ ایسا کریں،جس بانسر پر وہ آٹ ہوئے میری خواہش تھی کہ وہ اس پر چھکا جڑتے۔یاد رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب شعیب اختر نے بھارتیوں کو خوش کرنے کے لیے ایسا بیان دیا ہو،سابق بھارتی اوپنر وریندر سہواگ بھی کئی مرتبہ شعیب اختر کا مذاق اڑا چکے ہیں کہ وہ دولت کمانے کے لیے بھارتی شائقین کو خوش کرتے ہیں ۔شعیب اختر کے یوٹیوب چینل سبسکرائیبرزمیں بہت بڑی تعدادبھارتیوں کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…