بدھ‬‮ ، 26 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلا ئوروکنے کیلئےروزانہ کتنے ٹیسٹ کئے جارہے ہیں؟حکومتی سطح پر بڑا دعویٰ سامنے آگیا

datetime 18  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد( این این آئی )وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا ہے کہ پاکستان میں کورونا وائرس کا پھیلا ئوروکنے کے لیے 30 ہزار ٹیسٹ روزانہ کرنے کی صلاحیت اطمینان بخش ہے، اس وقت ہمارے پاس 25 ہزار ٹیسٹ روزانہ کرنے کی صلاحیت ہے جس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے،ہمیں امید ہے کہ رواں ماہ کے اواخر یا آئندہ ماہ کے اوائل سے ہم 30 ہزار ٹیسٹ روزانہ کرنے کے قابل ہوں گے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق اسد عمر نے کہا کہ ملک بھر میں روزانہ کی بنیاد پر 14 ہزار ٹیسٹ کیے جارہے ہیں لیکن

اس کا مطلب یہ نہیں ملک میں 14 ہزار سے زائد ٹیسٹ نہیں کیے جاسکتے۔انہوں نے کہا کہ اس وقت ہم زیادہ تر نمونے تربیتی ہسپتالوں یا پاکستان میں داخل ہونے والے مسافروں سے حاصل کررہے ہیں، ہمیں امید ہے کہ تربیتی ہسپتالوں کے علاوہ دیگر ہسپتال سے بھی جلد نمونے اکٹھے کر کے بھیجنے کا آغاز کردیں گے جس سے ٹیسٹنگ کی تعداد بڑھ جائے گی۔انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس کے پھیلا ئوکی رفتار کا اندازہ لگانے اور اس کے مطابق مستقبل کی حکمت عملی تشکیل دینے کے لیے 30 ہزار ٹیسٹ روزانہ کی تعداد کافی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…