اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی خاتون فوٹو گرافر کا نظرکی عینک سے ماضی اور حال کا دلکش امتزاج

datetime 12  مئی‬‮  2020 |

دمام (این این آئی)سعودی عرب کی ایک خاتون فوٹو گرافر نے روایتی فوٹو گرافی سے ہٹ کرماضی اور حال کو کچھ ایسے دلکش انداز میں پیش کیا ہے کہ دیکھنے والے مبہوت ہوکر رہ گئے ۔عرب ٹی وی کے مطابق خاتون فوٹو گرافرسارہ آل مقبل نے نظرکی عینک سے ماضی اور حال کو دلفریب انداز میں ایک دوسرے سے جوڑ کرلوگوں کی غیرمعمولی توجہ حاصل کی ہے۔اس نے مشرقی سعودی عرب کی

الخبر گونری میں پرانے محلوں میں موجود از کار رفتہ اور بوسیدہ گاڑیوں کے ڈھانچوں ماڈرن فیشن ماڈلز کے ساتھ کچھ ایسے دلفریب انداز میں جوڑا ہے کہ دیکھنے والا اس کی پیشہ وارانہ مہارات کو داد تحسین دیے بغیر نہیں رہ سکتا۔فوٹوگرافر سارہ مقبل نے 12 سال کی عمر میں فوٹو گرافی کے شوق کا عملی سفر شروع کیا۔عرب ٹی وی سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ اس قسم کی فوٹو گرافی اس کے روز مرہ فوٹو گرافی کے کام سے مختلف ہے۔ فوٹو سے محبت کرنے والوں نے ان شارٹس کوبہت پسند کیا اور بہت سے لوگوں نے تصاویر کو آگے شیئر کیا۔سارہ کا کہنا ہے کہ اس نے فیش ماڈل غادہ کوجدید لڑکیوں نمائندگی کرنے کے لیے چنا مگر تصویر کی روح اور اصل اس کا ماضی کا پہلو ہے۔ تصویر میں غادہ کو سر پر عبایا پہن کر 1969 ماڈل کی سرخ کار کے ذریعے سبزی منڈی اور پھر لکڑ کی منڈی جاتی ہے۔ سارہ نے مزید کہا کہ تصاویر لیتے وقت اس نے سورج کی روشنی پرانحصار کیا اور تصاویر میں حیران کر دینے والے زاویوں سے تصاویر اتاریں۔ایک سوال کے جواب میں سارہ مقبل نے کہا کہ فوٹو گرافی سے میرے بے پناہ شوق اور محبت نے آج مجھے شہرت کے اس بلند مقام تک پہنچایا ہے۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…