لندن (این این آئی)برطانیہ اور کینیا کے سائنسدانوں کی ٹیم نے ملیریا سے مکمل نجات کے حوالے سے بڑی کامیابی حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔سائنسدانوں نے کہا کہ انہوں نے ایک ایسا جرثومہ دریافت کیا ہے جو ملیریا کی وجہ بننے والے طفیلیے پلازموڈیم کو کنٹرول کرنے کی بے حد صلاحیت رکھتا ہے لہٰذا اس تحقیق سے آنے والے دنوں میں مچھروں سے پھیلنے والی ملیریا کی بیماری سے لوگوں کی
حفاظت ممکن ہوسکے گی۔محققین ملیریا کو قابو میں کرنے کے لیے مچھروں میں مذکورہ جرثومہ داخل کرکے انہیں جنگلوں میں چھوڑنے یا دیگر طریقوں سے اس جرثومے کو مچھروں تک پہنچانے پر غور کررہے ہیں۔ملیریا کا سبب بننے والے پیراسائٹ یعنی طفیلیے کو روکنے میں معاون ثابت ہونے والا یہ جرثومہ کینیا کی جھیل وکٹوریہ میں مچھروں پر تحقیقات کے دوران دریافت ہوا، ماہرین کے مطابق یہ جرثومہ کیڑوں کی آنت اور جنسی اعضاء میں رہتا ہے۔تحقیق کے دوران ماہرین کو ایک بھی مچھر ایسا نہیں ملا جس میں یہ جرثومہ موجود ہو اور وہ ملیریا کے جراثیم بھی رکھتا ہو جبکہ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ بات ظاہر کرتی ہے کہ یہ جرثومہ مچھر کو ملیریا کے جراثیم سے محفوظ رکھتا ہے۔ماہرین کے مطابق یہ فی الحال یہ جرثومہ قدرتی طور پر تقریباً 5 فیصد مچھروں میں پایا گیا ۔دوسری جانب کینیا کے عالمی مرکز برائے حشرات الارض اور ماحولیات کے ڈاکٹر جیرمی ہیرن کا کہنا ہے کہ یہ جرثومہ 100 فیصد ملیریا کو روکنے میں مؤثر ہے اور یہ بہت بڑی پیشرفت ہے۔ماہرین کے مطابق کسی بھی خطے میں ملیریا کو روکنے کیلئے ضروری ہے کہ کم از کم 40 فیصد مچھروں کو اس جرثومے سے متاثر کیا جائے کرنا ضروری ہے۔بالغ مچھروں میں براہ راست اس جرثومے کو داخل کرنے یا پھر مادہ مچھروں کے ذریعے ان کے بچوں میں جرثومہ منتقل کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔



















































