اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کروناوائرس پہلے چین میں نہیں پھیلا بلکہ کس یورپی ملک میں پھیلا تھا ؟ حیرت انگیز تفصیلات سامنے آگئیں 

datetime 4  مئی‬‮  2020 |

پیرس (این این آئی)یورپی ملک فرانس کے ایک ڈاکٹر کی جانب سے انکشاف کیا گیا ہے کہ ممکنہ طور پر کورونا وائرس کی بیماری چین سے قبل ہی فرانس میں شروع ہوچکی تھی یا پھر فرانس میں بھی اس وقت ہی شروع ہوئی جس وقت چین میں شروع ہوئی۔ریڈیو فرانس انٹرنیشنل (آر ایف آئی) کے مطابق فرانس کے دارالحکومت پیرس کے نواحی شہر سے تعلق رکھنے والے ایک ڈاکٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ ممکنہ طور پر

فرانس مین کورونا وائرس دسمبر 2019 میں ہی شروع ہو چکا تھا۔فرانس نے جنوری 2020 کے آخر میں اپنے ہاں پیلے کورونا وائرس کیس کی تصدیق کی تھی اور فرانس وہ پہلا یورپی ملک بنا تھا جہاں کورونا کی تصدیق کی گئی تھی اور یورپ کی کورونا کی پہلی موت بھی فرانس میں ہی ہوئی تھی۔فرانس میں کورونا کے باعث پہلی ہلاکت 15 فروری کو ہوئی تھی اور ہلاک ہونے والے شخص نے بیماری میں مبتلا ہونے سے قبل چینی شہر ووہان کا دورہ کیا تھا۔اب ایک فرانسیسی ڈاکٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ دراصل وہاں پر کورونا وائرس دسمبر 2019 میں ہی شروع ہو چکا تھا۔پیرس کے قریبی شہر کے ڈاکٹر یویس کوہن نے ایک ریڈیو انٹرویو میں دعویٰ کیا کہ ان کی تفتیش کے مطابق فرانس میں کورونا کا پہلا کیس 27 دسمبر 2019 کو سامنے آیا، یعنی کہ فرانس میں پہلے مشتبہ کیس چینی حکام کی جانب سے کورونا کی 31 دسمبر 2019 کو تصدیق کیے جانے سے بھی 3 دن قبل آیا۔ڈاکٹر یویس کوہن کا کہنا تھا کہ انہوں نے اور ان کی ٹیم کے دیگر ارکان نے 2 مختلف ہسپتالوں میں 24 ایسے مریضوں کا معائنہ کیا جن میں ایسی علامات تھیں جنہیں بعد میں کورونا کی علامات کہا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جن مریضوں کو چیک کیا ان میں نمونیہ سمیت نزلہ و زکام کی ایسی علامات تھیں جنہیں بعد میں کورونا کی علامات میں شمار کیا گیا اور ان مریضوں میں اس وقت بے نام بیماری کی تصدیق 27 دسمبر 2019 کو ہوئی۔ڈاکٹر یوین کوہن کے مطابق انہیں یقین ہے کہ انہوں نے جن مریضوں کا دیکھا انہیں کورونا ہی تھا، تاہم اس وقت ماہرین کو اس بیماری کا علم نہیں تھا، جس وجہ سے ان میں مرض کی تصدیق نہیں ہوسکی۔فرانسیسی ڈاکٹر کی جانب سے

یہ دعویٰ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ چند دن قبل ہانگ کانگ کی ایک یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے کی جانے والی تحقیق میں انکشاف کیا گیا تھا کہ فرانس میں کورونا وائرس کسی دوسرے ملک سے نہیں آیا۔ریڈیو فرانس انٹرنیشنل کی ایک رپورٹ کے مطابق ہانگ کانگ کی

ایک یونیورسٹی کی جانب سے کی جانے والی ایک تحقیق میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ فرانس میں کورونا وائرس مقامی سطح پر شروع ہوا۔رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی کی 16 سالہ تحقیقاتی رپورٹ میں کہا ہے کہ ممکنہ طور پر فرانس میں مقامی سطح پر ہی کورونا وائرس شروع ہوا اور پھیلا ہو اور

وہاں پر چین سے کورونا منتقل نہیں ہوا ہوگا۔مذکورہ تحقیق کے بعد اب پیرس کے ایک ڈاکٹر نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے اور ان کی ٹیم نے دسمبر 2019 میں ایسے مریضوں کا علاج کیا جن میں کورونا جیسی علامات تھیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ کورونا میں ہی مبتلا تھے، تاہم اس وقت ماہرین کو کورونا کی معلومات نہ ہونے کی وجہ سے ان میں مذکوہ مرض کی تشخیص نہ ہوسکی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…