اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کورونا کی روک تھام کیلئے جو کچھ ہوسکتا تھا نہیں کیا گیا، عالمی ردعمل پریو این سیکرٹری جنرل کا افسوس

datetime 2  مئی‬‮  2020 |

نیویارک (این این آئی )اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے کہاہے کہ عالمی سطح پر کورونا وائرس کی روک تھام کیلیے جو کچھ ہوسکتا تھا نہیں کیا گیا۔ کورونا کی روک تھام کے لیے عالمی ردعمل دیکھ کر افسوس ہوا، ہمیں ماضی کی غلطیوں کو سنجیدگی سے لے کر ان سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔ اس وقت ترقی پذیر ملکوں میں عالمی ادارے کا متبادل نہیں مل سکتا، جب تک جنوبی دنیا میں کورونا ختم نہیں ہوگا

شمالی دنیا بھی خاتمے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔میڈیارپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے برطانوی میڈیا کو انٹرویو دیا جس میں انہوں نیکہا کہ عالمی سطح پر قیادت کی کمی کے باعث کورونا کو روکنے میں ناکامی ہوئی۔ انتونیو گوتریس نے کہا کہ اہم ممالک الزام تراشی کے بجائے کورونا کے خاتمے کے لیے مل کر کام کریں، اہم ممالک قریب آئیں اور ایک میکانزم بنائیں جس میں لاک ڈاؤن کے خاتمے، کاروبار کھولنے اور اس کی بحالی کی حکمت عملی ہو۔ان کا کہنا تھا کہ کورونا کی روک تھام کے لیے عالمی ردعمل دیکھ کر افسوس ہوا، ہمیں ماضی کی غلطیوں کو سنجیدگی سے لے کر ان سے سبق حاصل کرنا چاہیے۔سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ کورونا کے خلاف ہر ملک کی اپنی پالیسی اور حکمت عملی اس کے پھیلاؤ کی وجہ بنی، موجودہ حالات میں ڈبلیو ایچ او کو ہر ممکن ذرائع ملنے چاہئیں۔انتونیو گوتریس نے مزید کہا کہ اس وقت ترقی پذیر ملکوں میں عالمی ادارے کا متبادل نہیں مل سکتا، جب تک جنوبی دنیا میں کورونا ختم نہیں ہوگا شمالی دنیا بھی خاتمے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…