اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا ویکسین کی معلومات چوری کرنے کیلئے دنیا بھر کے خفیہ ایجنسیز متحرک ہوگئیں

datetime 1  مئی‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)کرونا وائرس کی معلومات کی چوری کیلئے دنیا بھر کی خفیہ ایجنسیز نے میدان سنبھال لیا ۔یہ مہلک وباء اب تک دنیا کے 200سے زائد ممالک میں پھیل چکی ہے جس کے مریضوں میں روزانہ کی بنیاد پر ہوشربا اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ دنیا بھر میں لگ بھگ 33 لاکھ افراد کو متاثر کرنے اور 2 لاکھ 33 ہزار سے زائد انسانوں کی زندگیاں چھیننے والی کورونا کی وبا سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے

کی جنگ شدت اختیار کر چکی ہے اور اب دنیا کے درجنوں ممالک کی خفیہ ایجنسیاں بھی اس میں کود پڑی ہیں۔ کورونا وائرس دسمبر 2019 میں چینی شہر ووہان سے شروع ہوا تھا اور اب تک یہ وبا دنیا کے 200سے زائد ممالک کو متاثر کر چکی ہے اور دنیا کے 100 کے قریب ادارے اور فارماسیوٹیکل کمپنیاں اس وبا سے بچاؤ کی ویکسین تیار کرنے میں مصروف ہیں۔امریکا، چین، برطانیہ، جرمنی، فرانس، اسپین، اٹلی، آسٹریلیا، کینیڈا اور اسرائیل سمیت درجنوں ممالک کی ادویات تیار کرنے والی کمپنیاں اور بائیو ٹیک کمپنیاں کورونا سے بچاؤ کی ویکسین کی دوڑ میں مصروف ہیں، تاہم تاحال کوئی بھی کمپنی ویکسین تیار کرنے کے بعد آزمائشی مرحلے سے آگے نہیں بڑھ سکی۔اگرچہ دنیا کے 100 کے قریب بائیوٹیک ادارے اور فارماسیوٹیکل کمپنیاں ویکسین بنانے میں مصروف ہیں، تاہم یکم مئی تک صرف 4 کمپنیوں کی ویکسین کی آزمائش انسانوں پر کی جا رہی تھی، جس میں سے 2 امریکی، ایک برطانوی، ایک جرمن کمپنی کی ویکسین کی آزمائش شروع کی گئی تھی۔اسی پریشانی کے تحت ہی دنیا کے متعدد ممالک کے خفیہ ادارے دوسرے ممالک سے کورونا کی ویکسین کی معلومات چرانے کے لیے متحرک ہوچکے ہیں اور جاسوسی کی دنیا میں ایک نئی جنگ بھی شروع ہوچکی ہے۔برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق دنیا بھر میں کورونا وائرس کی ویکسین تیار کرنے کی معلومات چرانے کے لیے ایک خفیہ سائبرس جاسوس جنگ شروع ہوچکی ہے اور ہر ملک کی کوشش ہے کہ

وہ کسی نہ کسی طرح اس جنگ میں برتری حاصل کرے۔رپورٹ میں امریکی خفیہ ادارے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ امریکی سائبر سیکیورٹی کے اداروں نے حکومت اور طبی تحقیق پر کام کرنے والے اداروں کو خبردار کیا ہے کہ کورونا سے متعلق ویکسین کی تیاری کا ڈیٹا کسی وقت بھی چوری ہو سکتا ہے،امریکا کے ادارے نیشنل کاؤنٹر انٹیلی جنس اینڈ سیکیورٹی سینٹر کے ڈائریکٹر بل اوانینا کا کہنا تھا کہ

امریکی حکومت نے تمام طبی تحقیقاتی اداروں اور ویکسین تیار کرنے والی بائیو ٹیک کمپنیوں اور میڈیکل سینٹرز کو ویکسین کی معلومات چوری ہونے کے خطرات سے خبردار کر رکھا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ خفیہ اداروں نے امریکا میں ایسی سرگرمیوں کو محسوس کیا ہے، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ غیر ملکی جاسوس کمپنیاں کورونا کی ویکسین سے متعلق معلومات چرانے کا کام شروع کر چکی ہیں اور حکومت نے ایسی سرگرمیوں کو نوٹ کرنے کے بعد طبی تحقیقاتی اداروں کو خبردار بھی کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…