بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

رمیز راجہ پابندی کا شکار کھلا ڑیوں پر تنقید بند کریں، محمد آصف

datetime 22  ‬‮نومبر‬‮  2014 |

لاہور۔۔۔۔ فاسٹ باؤلر محمد آصف نے سابق کپتان رمیز راجہ سے درخواست کی ہے وہ پابندی کا شکار تینوں کھلاڑیوں (سلمان، آصف، عامر) کو تنقید کا نشانہ نہ بنائیں۔تینوں کھلاڑیوں کو 2010 انگلینڈ میں ایک ٹیسٹ میچ میں اسپاٹ فکسنگ کا مرتکب پایا گیا تھا جبکہ تینوں ان دنوں اپنے کریئر کو دوبارہ شروع کرنے کی کوششیں کررہے ہیں۔پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار خان سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ رمیز راجہ نے ویسٹ انڈیز کے کھلاڑی مارلن سیموئلز کے لیے نرم رویے کا اظہار کیا تھا جنہیں میچ فکسنگ کے ایک کیس میں پابندی کا سامنا کرنا پڑا تھا تاہم حیران کن طور پر پاکستانی کھلاڑیوں کے لیے ان کے جذبات مختلف ہیں۔خیال رہے کہ رمیز نے کرک انفو ویب سائٹ پر ایک آرٹیکل میں محمد عامر کی واپسی کیلئے کوشش کرنے والی لابی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ عامر کی واپسی سے ٹیم ‘وائرس’ کا شکار ہو سکتی ہے۔پی سی بی نے آئی سی سی سے ایک خط میں عامر کو ڈومیسٹک کرکٹ کھلانے کی کلیئرنس مانگی ہے۔ عامر کی پابندی ستمبر 2015 میں ختم ہوگی۔انہوں نے کہا کہ پی سی بی چیئرمین کے ساتھ ان کی ملاقات اطمینان بخش رہی اور انہیں امید ہے کہ جلد انہیں ریہیب پروگرام مکمل کرنے کی اجازت مل جائے گی تاکہ وہ اپنے کریئر کا دوبارہ آغاز کرسکیں۔چند روز قبل سلمان بٹ نے بھی شہریار خان سے ملاقات کرکے ریہیب مکمل کرنے کی اجازت طلب کی تھی۔تاہم ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ آئی سی سی اور پی سی بی صرف عامر ہی کے لیے نرم گوشہ رکھتے ہیں کیوں کہ وہ اسپاٹ فکسنگ کیس میں وعدہ معاف گواہ بنے تھے جبکہ سلمان اور آصف نے کیس کے حوالے سے عالمی ثالثی عدالت سے رجوع کیا تھا تاہم وہاں بھی ان کے حق میں فیصلہ نہ آسکا۔ذرائع نے مزید بتایا کہ ریہیب پروگرام کے تحت آصف اور سلمان دونوں کو میچ فکسنگ کے حوالے سے تمام تر معلومات پی سی بی اور آئی سی سی کو بتانی ہوں گی تاہم یہ وقت ہی بتائے گا کہ وہ سچے دل سے ایسا کرنے کو تیار ہوں گے یا نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…