جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

کمزور، جنگ زدہ ممالک کی مدد نہ کی تو کورونا متاثرین کی تعداد کہاں تک پہنچ جائیگی؟بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی نے خبر دار کردیا

datetime 29  اپریل‬‮  2020
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

نیویارک(این این آئی )بین الاقوامی ریسکیو کمیٹی (آئی آر سی) نے خبردار کیا ہے کہ اگر کمزور ممالک کی فوری مدد نہ کی گئی تو دنیا میں ایک ارب افراد کورونا وائرس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔میڈیارپورٹس کے مطابق آئی آر سی نے کہا کہ اس وائرس کے عالمی پھیلاؤ کو کم کرنے میں مالی اور انسانی امداد کی ضرورت ہے۔ادارے کے مطابق کمزور ممالک جیسے افغانستان اور شام کو کسی بڑی وبا سے بچنے کے لیے

فوری فنڈنگ کی ضرورت ہے۔انہوں نے خبردار کیا کہ ’ابھی مختصر وقت بچا ہے اور اسی وقت میں مربوط ردعمل کی ضرورت ہے۔عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) اور امپیریل کالج لندن کے ماڈلز اور اعداد و شمار پر مبنی آئی آر سی کی رپورٹ میں پیشگوئی کی گئی کہ عالمی سطح پر 50 کروڑ سے ایک ارب کے درمیان افراد میں وائرس پھیل سکتا ہے۔اس میں یہ بھی کہا گیا کہ تنازعات سے متاثرہ اور غیر مستحکم ممالک کے درجنوں علاقوں میں 30 لاکھ سے زیادہ اموات ہوسکتی ہیں۔آئی آر سی کے سربراہ ڈیوڈ ملی بینڈ نے کہا کہ ان نمبروں کو ویک اپ کال کے طور پر دیکھنا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ کمزور اور جنگ زدہ ممالک میں اس وبائی بیماری کے تباہ کن اور انتہائی غیر متوازن نتائج سامنے نہیں آئے اس لیے مخیر ممالک فوری طور پر لچکدار فنڈنگ کریں۔ادارے کے مطابق حکومتوں کو انسانی امداد کی راہ میں حائل رکاوٹ کو دور کرنے کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے۔ترقی پذیر دنیا کے بہت سے ممالک میں سرکاری سطح پر انفیکشن کی شرح یا اموات کی تعداد کم بتائی جارہی ہے یقیناً وہاں اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔یمن میں ڈاکٹر کیرولین سیگین بتایا کہ وہاں کووڈ 19 سے صرف ہسپتالوں میں نہیں بلکہ ویسے بھی مر رہے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ہمیں یقین ہے کہ وہاں مقامی ٹرانسمیشن جاری ہے لیکن جانچ کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔دنیا بھر میں کورونا وائرس کے کیسز پر نظر رکھنے والے ویب سائٹ کے اعداد وشمار کے مطابق امریکا بدستور پہلے نمبر پر ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد 56 ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ تصدیق شدہ کیسز 10 لاکھ کے قریب تر پہنچ چکے ہیں۔‎

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…