اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

کرونا وائرس کی وباءپھوٹنے کے بعد جنوری میں چین نے چپکے سےکونسا کام کیاتھا؟ ناقابل یقین انکشاف سامنے آگیا

datetime 27  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) دسمبر میں ووہان میں کرونا وائرس کی وباء پھیلنے والی وباء نے پوری دنیا کو اپنے حصار میں لیا ہوا ہے ، اربوں لوگ گھروں میں بند ہو کر رہ گئے ہیں اور کروڑوں افراد اپنی نوکریوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں ۔ وباء کےپھوٹنے کے بعد لوگوں میں طرح طرح کی تصورات جنم لینے لگ گئے تھے یہ کہاں تک پھیلے گی لیکن چین نے 21جنوری کو چپکے ایسا کام کر دیا جس نے پوری دنیا کو

بھی حیران کر دیا ۔ تفصیلات کے مطابق میل آن لائن نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ کرونا وائرس کا مہلک وائرس ووہان میں پھیلنے کے بعد چین نے 21جنوری کو چپکے سے معروف دوا ساز ’’Remdesivir‘‘کا صنعتی پیمانے پر دوا کے استعمال کرنے کی سند حق ایجاد کی درخواست کی تھی ۔ووہان انسٹیٹیوٹ آف ویرالوجی جانب یہ درخواست دی کیونکہ کئی سالوں سے کرونا وائرس پر تحقیقات جاری تھیں جبکہ مغربی دنیا کے الزامات کے مطابق یہاں سے یہ وائرس نکل کر پوری دنیا میں پھیلا ۔ لیبارٹری کی جانب درخواست دی گئی ، کیونکہ وہ جانتے تھے یہ دوا ممکنہ طور پر وائرس کا علاج کر سکتی ہے ۔ چینی ماہرین نے سوچا کہ باقی دنیا سے پہلے وہ اس کی سند حق ایجاد حاصل کر لیں اور وباءپھیلنے کے بعد اس دوا کی فروخت سے پیسہ کمائیں۔رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ مغربی دنیا میں کرونا وائرس کے پھیلائو میں چین کے کردار کی مکمل تحقیقات کا مطالبہ شدت اختیار کر رہی ہے ۔ دوسری جانب دنیا میں کرونا وائرس سے متاثرین کی تعداد30لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ ہلاکتیں 2لاکھ 8ہزار سے زائد ہو چکیں ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…