اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

طبی عملے پر تشدد کرنے والوں کو 7 سال قید و جرمانہ ہوگا، بھارت میں طبی عملے پر تشدد کرنیوالوں کو سخت سزا دینے کا قانون متعارف

datetime 22  اپریل‬‮  2020 |

نئی دہلی (این این آئی)بھارت میں کورونا وائرس کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والے ڈاکٹرز اور طبی عملے پر بڑھتے تشدد کو روکنے کے لیے مرکزی حکومت نے تقریبا سوا صدی پرانے آرڈیننس میں ترمیم کرکے طبی عملے پر تشدد کرنے والوں کو سخت سزا دینے کا قانون متعارف کرادیا۔بھارتی میڈیا نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ مرکزی حکومت نے ڈاکٹرز و طبی عملے پر تشدد کرنے والے افراد کے خلاف سزاؤں کا ترمیمی آرڈیننس (وبائی امراض ایکٹ 2020) تیار کرلیا

اور اس کی مرکزی کابینا نے منظوری بھی دے دی،اب مذکورہ بل پر صدر اور وزیر اعظم کے دستخط کے بعد اسے نافذ کردیا جائے گا، جس کے تحت طبی عملے و ڈاکٹرز پر تشدد کرنے والوں کو 7 سال قید اور 7 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔رپورٹ کے مطابق وبائی امراض ایکٹ کے تحت ڈاکٹرز و طبی عملے پر تشدد کرنے والے افراد کے خلاف مختلف طرح کی سزائیں تجویز کی گئی ہیں اور ایکٹ کی سزاؤں کو 2 اہم حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔مذکورہ ایکٹ کو انتہائی سخت قسم کے تشدد اور حملے سمیت عام تشدد اور حملے میں تقسیم کرتے ہوئے کم از کم تین ماہ کی سزا اور 50 ہزار روپے جرمانے جب کہ زیادہ سے زیادہ 7 سال قید اور 7 لاکھ روپے جرمانے کی سزا تجویز کی گئی ہے۔آرڈیننس ایکٹ کے تحت کم نوعیت کے تشدد اور حملے میں ملوث افراد کو کم از کم 3 ماہ اور زیادہ سے زیادہ 5 سال کی سزا یا پھر کم از کم 50 ہزار یا زیادہ سے زیادہ 2 لاکھ جرمانے کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔اسی طرح سخت قسم کے تشدد اور حملے میں ملوث افراد کو کم از کم 6 ماہ قید اور زیادہ سے زیادہ 7 سال قید جب کہ کم از کم ایک لاکھ اور زیادہ سے زیادہ 7 لاکھ روپے جرمانہ یا پھر دونوں ہی سزائیں دی جا سکتی ہیں۔مذکورہ آرڈیننس کو کابینا کی جانب سے منظور کیے جانے کے بعد مرکزی وزیر پرکاش جاویڈکر کا کہنا تھا کہ مذکورہ آرڈیننس پر آئندہ چوبیس گھنٹے میں تک صدر و وزیر اعظم دستخط کردیں گے جس کے بعد اس آرڈیننس کو نافذ کردیا جائے گا۔انہوں نے بتایا کہ کسی بھی کیس ہونے کی صورت میں حملے میں ملوث افراد کا کیس 30 دن میں مکمل کرلیا جائے گا جب کہ ایک سال کے اندر اندر ملوث شخص کو سزا سنادی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…