اتوار‬‮ ، 27 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا کی توجہ کرونا پر مرکوز ،عالمی اشتہاری داعشی سربراہ عراق میں داخل

datetime 22  اپریل‬‮  2020 |

واشنگٹن/بغداد(این این آئی) دہشت گردی کیخلاف جنگ سے توجہ ہٹنے کے نتیجے میں داعش کے بارے میں معلوم ہوا ہے کہ وہ ایک بار پھر حرکت میں آگئی ہے۔میڈیارپورٹس کے مطابق عراق کے انٹیلی جنس اداروں کی طرف سے بتایا گیا کہ داعش کا موجودہ سربراہ اور مقتول جنگجو ابو بکر البغدادی کا جانشین ابو ابراہیم القرشی عراق میں داخل ہوگیا ہے۔ذرائع کا کہنا تھاکہ البغدادی کرونا وبا کے نتیجے میں

عالمی توجہ ہٹنے سے فائدہ اٹھا رہا ہے۔ امریکا نے ابراہیم القرشی کو دنیا کے درجہ اول کے اشتہاریوں میں شامل کرتے ہوئے اس کے بارے میں معلومات فراہم کرنے پر 50 لاکھ ڈالر کی بھاری رقم کا انعام مقرر کیا ہے۔امریکی وزارت خارجہ کی طرف سے ٹویٹرپر جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ القرشی ایک دہشت گرد ہے اور اس نے سنگین نوعیت کے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ بیان میں عام الناس سے اپیل کی گئی کہ وہ دہشت گرد ابراہیم القرشی کے بارے میں معلومات فراہم کرکے دنیا کو دہشت گردی سے بچانے میں مدد کریں۔ اس کے بدلے میں انہیں پانچ ملین ڈالر انعام دیا جائے گا۔ بیان میں امریکی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ پیارے عراقی بھائیوں!آپ داعش کے موجود سربراہ حجی عبداللہ المعروف ابراہیم القرشی کے جرائم اور دہشت گردی میں ملوث ہونے کے بارے میں اچھی طرح جانتے ہو۔ اس کے جرائم شمار قطار سے باہر ہیں۔ اگر آپ کے پاس اس کے بارے میں کسی قسم کی معلومات موجود ہیں تو ہمارے ساتھ شیئر کریں اور اس کے بدلے میں آپ کو پچاس لاکھ لاکھ ڈالردیئے جائیں گے۔انٹیلی جنس داروں اور دہشت گرد گروپوں پر نظر رکھنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ ‘داعش’ کرونا کی وبا سے فایدہ اٹھا کر خود کو مزید منظم کرنے اور اپنی ازسر نو صف بندی کی کوشش کررہی ہے۔ عراق کے ایک انٹیلی جنس ذریعے کا کہنا ہے کہ داعشی سربراہ ابو ابراہیم القرشی شام سے عراق میں داخل ہوگئے ہیں تاہم اس کے حوالے القرشی کے بارے میں مزید معلومات نہیں مل سکی ہیں۔‎

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…