اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

مساجد میں پانچ سے زائد نمازیوں کی پابندی کو ختم کر دیا گیا، جمعہ اور نماز تراویح پر بھی پابندی نہ لگانے کا فیصلہ

datetime 15  اپریل‬‮  2020 |

مظفرآباد (این این آئی)وزیر اعظم آزادحکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے مساجد میں پانچ سے زائد نمازیوں کی پابندی کو ختم کرتے ہوئے علماء کرام سے اپیل کی ہے مساجد میں نمازیوں کی تعداد کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلہ کریں۔ آزادکشمیر میں نماز پنجگانہ جمعہ اور تراویح پر کوئی پابندی نہیں لگائی جائیگی۔ عبادات کی ادائیگی کے دوران حفاظتی تدابیر اختیار کی جائیں اورمساجد میں ڈس انفکیشن سپرے کروایا جائے۔

رمضان المبارک کے مقدس مہنیے کی بابرکت سعادتوں سے مستفید ہونے ہونے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائیں گے۔ علماء کرام سے گزارش ہے کہ نازک صورتحال میں عوام کو احتیاطی تدابیر کا درس دیں اور حکومت کی بھی رہنمائی کریں۔آزادکشمیر بھر میں لاک ڈاون کے دوران علما کرام پر قائم مقدمات ختم کیے جائیں گے۔ وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان اپنی میزبانی میں منعقدہ آزادکشمیر کے جید علماء کرام کے اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔وزیر ایس ڈی ایم اے احمد رضاقادری بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اجلاس میں صاحبزادہ سلیم چشتی، مولانا محمود الحسن مسعودی، علامہ سید شبیر حسین بخاری، محمد زمان سیفی، مولانا قاری عبدالمالک،مولانا سید نذیر گیلانی، مولانا عبدالروف نظامی، قاضی محمد ابراہیم چشتی، مولانا عمران شیرازی، مولانا سید ریاض کاظمی، مولانا طاہر حمید برکتی، مولانا محمود الحسن اشرف، مولانا سید عدنان، مولانا عتیق دانش، مولانا دانیال شہاب مدنی، مولانامحمد اشتیاق ضیائی، علامہ فرید عباس، علامہ حسین کاظمی، مولانا حافظ نذیر احمد قادری، مولانا قاضی منظور الحسن، مولانا محمد پرویز قریشی ودیگر نے شرکت کی۔صاحبزادہ سلیم چشتی نے نظامت کے فرائض انجام دیے۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہاکہ مساجد میں احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوے نمازیوں کی تعداد میں اضافہ کیا جائیگا۔ انہوں نے کہاکہ رمضان المبارک کی آمد آمد ہے علماء کرام اس ماہ مقدس میں عوام کو استغفار کا درس اور ہمارے لیے بھی دعا کریں کہ اللہ رب العزت ہمیں اس آزمائش سے نکلنے کی توفیق عطا کریں۔

انہوں نے کہاکہ علماء کرام کی ذمہ داری ہے کہ نازک صورتحال میں عوام کی رہنمائی کریں۔ حکومت نے جو اقدامات اٹھائے وہ عوام کی حفاظت کیلئے ہیں۔ ابتداء میں آزادکشمیر میں صرف دو کرونا کے مریض تھے اور اب 46ہیں،حکومت اگر لاک ڈاؤن نہ کرتی تو آج صورتحال سنگین ہوتی۔ انہوں نے کہا کہ تفتان سے واپس آنے والے زائرین اور تبلیغی جماعت والوں نے کسی کو جان بوجھ کر متاثر نہیں کیا لیکن معاشرے نے ان دو طبقات کو اچھوت سمجھنا شروع کر دیا جو کہ سراسر زیادتی ہے۔

کرونا عالمی وباء ہے اوریہ کسی کو بھی ہو سکتا ہے اس لیے کرونا سے متاثرہ مریضوں کی اخلاقی حمایت کرنی چاہیے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ علماء کرام نے ہمیشہ عوامی مفاد کو مقدم رکھا اور حکومت کے فیصلوں کی تائید کی۔ علما کرام کا معاشرے میں کردار انتہائی اہم ہے۔ وزیر اعظم نے کہاکہ لاک ڈاؤن کے دوران اگر کسی عالم دین پر مقدمہ درج کیا گیا ہے تو اسے ختم کیا جائے گا اور مستقبل میں بھی ایسا نہیں ہوگا۔ اس موقع پر علما کرام نے ہیلتھ ایمرجنسی کے حوالے سے اٹھاے جانے والے حکومتی اقدامات کی مکمل حمایت کا اعلان کردیا۔آخر میں صاحبزادہ سلیم چشتی نے رقعت آمیز دعا کرائی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…