اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

خاتون پولیس افسرکا جوتوں سمیت مسجد میں داخل ہوکرمسجد کی حرمت کو پامال کرنا کسی صورت قابل قبول نہیں، علماء کرام نے دھماکہ خیز اعلان کر دیا

datetime 12  اپریل‬‮  2020 |

کراچی (این این آئی) موجودہ صورتحال کے حوالہ سے علمائے کرام اور ائمہ مساجد کا ایک اہم اجلاس آج بروز اتوار جامعہ دارالعلوم کراچی میں منعقد ہوا۔اس اہم اجلاس میں 10اپریل کو جامع مسجدحقانی فرنٹیرکالونی اوراس سے پہلے بروز جمعہ کوجامع مسجدغوثیہ لیاقت آبادمیں،نیز کچھ دیگرمساجدمیں بھی جوناخوشگوار واقعات پیش آئے اس پرانتہائی رنج وغم اورتشویش کا اظہار کیا گیا۔

مبینہ طورپر جامع مسجدحقانی میں خاتون پولیس افسرکا جوتوں سمیت مسجد میں داخل ہوکرمسجد کی حرمت کو پامال کرنااورنمازیوں کیساتھ بدتہذیبی کامعاملہ کرناکسی طرح قابلِ قبول نہیں ہے۔اوراگرکسی نے خاتون کیساتھ کوئی زیادتی کی ہے تواس کے بجائے امام وخطیب کیخلاف مقدمہ قائم کرنانہ صرف کھلی ناانصافی ہے بلکہ ان صریح یقین دہانیوں کیخلاف ہے جووزیرِاعلی سندھ اورانتظامیہ کے مختلف ذمہ داروں نے باربارکرائی ہیکہ امام صاحب کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ لوگوں کو پابندی کی تلقین کریں، جو انہوں نے انجام دی۔ اس کے باوجود لوگ اندر آئیں تو انہیں زبردستی باہر نکالنا امام یا انتظامیہ کا کام نہیں، یہ حکومت کے اہلکاروں کا کام ہیکہ وہ مسجد کے باہر لوگوں سے حکمت اور نرمی کے ساتھ پابندی کرائیں۔اجلاس نے پرزورمطالبہ کیاکہ امام صاحب اورمسجد کی انتظامیہ کیخلاف ایف آئی آر فورا ختم کی جائے۔خاتون ایس ایچ او جنہوں نے مبینہ طورپرمسجدکی حرمت پامال کی ہے انہیں معطل کیاجائے اورواقعہ کی پوری تحقیق کی جائے،اور27مارچ کوجوایف آئی آردرج کی گئیں ان کے بارے میں وزیرِاعلی سندھ اورآئی جی نے جویقین دہانی کرائی تھی، آج دوہفتوں سے زائدگزرنے کے بعدبھی وہ ابھی تک ختم نہیں کی گئیں، ان کوبھی وعدہ کیمطابق فورا واپس لیاجائے۔اس کے علاوہ اجلاس میں اس بات پربھی غورکیاگیاکہ مساجد میں نمازیوں کی تعدادپانچ افرادتک محدود کرنیکی پالیسی قابلِ عمل ثابت نہیں ہورہی،اوراس سے ملک بھرمیں مسائل پیداہورہے ہیں،

اس لیے اب مساجدکو تعدادکی پابندی کے بغیرکھولنے اوردوسری احتیاطی تدابیر مثلا صفوں میں فاصلے کی مقداروغیرہ پرغورکرنے اورآئندہ کا لائحہ عمل طے کرنے کیلئے تنظیماتِ مدارسِ دینیہ اوردوسری دینی جماعتوں کاایک نمائندہاجتماع بروز منگل 14اپریل کوجامعہ دارالعلوم کراچی میں منعقدکیاجائیگا، جس میں وباکی مجموعی صورتحال،اوردینی اعتبارسے عوام کی رہنمائی پربھی غورکیاجائیگا۔اجلاس میں مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی،شیخ الاسلام مولانا مفتی محمد تقی عثمانی مولانا ڈاکٹر عادل خان مولانا مفتی عزیز الرحمن مولاناقاری محمد عثمان مولانا امداد اللہ مولانا مفتی عبدالرف مولانا سعید اسکندرمولاناڈاکٹرمفتی محمد زبیرعثمانی مولانا ناصر سومرومولانا مفتی راحت علی ہاشمی مولانا مفتی عبدالحمید ربانی

مولانا محمدیونس لغاری مولانا ڈاکٹر قاسم عبداللہ مولانا مفتی اعجاز مصطفی مولاناڈاکٹرمفتی محمد عمران عثمانی حضرت مولاناعبیداللہ ہزاروی مولانا شفیق الرحمن کشمیری مولانا مصباح العالم مولانا مفتی محمد مولاناڈاکٹرعبدالستارمولانا عبدالرحمن مولانا مفتی عبد المنان مولانامحمدطیب مولاناڈاکٹرمفتی محمد حسان عثمانی مولاناقاری اللہ داد مولاناڈاکٹرقاسم محموداور دیگر شریک ہوئے۔اجلاس کے تمام شرکا نے ملک بھرکے میڈیکل اورپیرامیڈیکل اسٹاف کی خدمات کوخراجِ تحسین پیش کیاکہ جس قربانی اورتندہی کیساتھ وہ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں وہ پوری قوم کی طرف سے شکریہ کے مستحق ہیں۔اجلاس کے شرکا نے عوام سے اپیل کی ہیکہ وہ ان کی اورپوری قوم کی سلامتی کی دعا کریں۔اجلاس میں یہ مطالبہ بھی کیا گیا کہ وبا کے پھیلا کے سلسلے میں کسی ایک طبقے مثلا تبلیغی جماعت کو نشانہ ملامت بنانا کسی طرح درست نہیں،قومی آزمائش کی اس گھڑی میں پوری قوم کو متحد ہو کر اس آزمائش سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…