جمعہ‬‮ ، 19 جون‬‮ 2026 

جنہیں پہلے ہی یہ بیماری ہو وہ کرونا وائرس کا شکار زیادہ بن سکتےہیں ؟ طبی ماہرین نے خبردار کر دیا

datetime 12  اپریل‬‮  2020 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک)ذیابطیس کے مریضوں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے امکانات صحت مند لوگوں جتنے ہی ہیں لیکن ذیابطیس کے مریضوں میں کورونا وائرس کا حملہ زیادہ جان لیوا ثابت ہورہا ہے۔ ذیابطیس کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ اپنی شوگر کنٹرول کرنا شروع کردیں اور خاص طور پر رمضان کے مقدس مہینے میں روزے رکھنے کے لیے ابھی سے تیاری شروع کریں۔دواؤں اور انسولین کی

ڈوز میں ڈاکٹر کے مشورے سے تبدیلی اور صحت مند طرز زندگی اپنا کر ذیابطیس کے مریض رمضان کے مہینے میں بغیر کسی دشواری کے روزے رکھ سکتے ہیں۔ کورونا وائرس میں مبتلا ہونے والے مریضوں کو روزے رکھنے کی ضرورت نہیں لیکن صحتیابی کے بعد اگر معالج ان کو اجازت دیں تو وہ روزے رکھ سکتے ہیں۔ان خیالات کا اظہار ماہرین نے اتوار کے روز ‘زیابطیس اور رمضان کے عنوان سے منعقدہ آن لائن آگاہی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا، جس کا انعقاد بقائی انسٹیٹیوٹ آف ڈائبیٹالوجی اینڈ اینڈوکرائنولوجی نے کیا تھا۔معروف ماہر امراض ذیابطیس ڈاکٹر سیف الحق کا کہنا تھا کہ آن لائن آگاہی پروگرام منعقد کرنے کا مقصد روزے داروں کو آنے والے ماہ رمضان کے لئے تیار کرنا ہے ۔روزنامہ جنگ کی رپورٹ کے مطابق پروگرام میں میں سائنسی بنیادوں پر ہونے والی تحقیق اور عالمی اداروں کی تجاویز کی روشنی میں ذیابطیس کے مریض روزے داروں کو محفوظ طریقے سے ماہ رمضان گزارنے کے مشورے دیئے جاتے ہیں۔ڈاکٹر سیف الحق کا کہنا تھا کہ رمضان کا مہینہ شروع ہونے سے پہلے ہی ذیابطیس کے مریضوں کو اس کی تیاری شروع کر دینی چاہیے اور اپنے معالج کے مشورے سے دواؤں اور اپنے معمولات زندگی کو بدلنا شروع کر دینا چاہیے تاکہ وہ رمضان کے مہینے میں آسانی سے روزے اور عبادات کا لطف اٹھا سکیں۔معروف عالم دین مولانا احتشام الحق کلیانوی کا کہنا تھا کہ

اللہ رب العزت فرماتا ہے کہ اپنی جانوں کو ہلاکت میں مت ڈالو جس کا مطلب یہ بھی ہے کہ اگر معالجین روزے رکھنے سے منع کریں تو ایسے لوگوں پر فرض ہے کہ وہ معالجین کی ہدایات پر عمل کریں۔ مولانا کلیانوی کا کہنا تھا کہ روزے کی حالت میں شوگر چیک کرنے، انجکشن لگوانے اور ڈرپ لگوانے سے روزہ نہیں ٹوٹتا جبکہ قے آنے سے بھی روزہ نہیں ٹوٹتا۔ان کا مزید کہنا تھا کہ کسی مریض روزے دار کی

حالت خراب ہو جائے تو اسے اپنے معالج کے مشورے سے روزہ توڑ دینا چاہیے۔بقائی انسٹیٹیوٹ سے وابستہ غذائی امور کی ماہر ربعہ امتیاز کا کہنا تھا کہ کورونا وائرس کے خطرے کے پیش نظر لوگوں کو صحت مند اور متوازن غذا کا استعمال کرنا چاہیے جبکہ ذیابطیس کے مریضوں کو چاہیے کہ وہ نشاستہ دار اور چکنائی والی غذاؤں سے پرہیز کرتے ہوئے پھلوں سبزیوں دودھ، دہی اور لسی کا استعمال کریں۔انہوں نے مزید کہا چونکہ رمضان اس سال شدید گرمی کے موسم میں آرہا ہے تو سحر و افطار کے دوران زیادہ سے زیادہ پانی پئیںں اور کولڈ ڈرنکس کا استعمال کم سے کم کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



فلم میں بھی ہارنے سے انکار


یہ تبلیسی شہر تھا‘ اکتوبر کی 8 تاریخ تھی اور سن…

Pale Blue Dot

کارل ایڈورڈ سیگن (Carl Edward Sagan) خلانورد اور پلانٹری…

نصیب کی مکھی

ٹومی فلیٹ ووڈ (Tommy Fleetwood) دنیا کا مشہور گالفر ہے‘…

8 بجے تک

میرا جم میرے گھر سے پانچ منٹ کی دوری پر ہے‘ میں…

ریو سیکریٹو

دریا کا پانی صاف اور شفاف تھا‘ مایا لوگ یہ پانی…

تلوم اور تلوم سے آگے

ہم کوبا سے واپسی پر تلوم (Talum) رکے‘ یہ مایا تہذیب…

کوبا مایان

کوبا مایان (Coba Mayan) ہماری پہلی منزل تھا‘ کین کون…

کین کون میں چار دن

کین کون میکسیکو کا اہم ترین سیاحتی شہر ہے‘ یہ…

لکڑی کا تختہ

خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…