جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

قطر نے کرونا وائرس کے سبب 8ارب ڈالر کے معاہدے ملتوی کر دئیے

datetime 9  اپریل‬‮  2020 |

دوحہ (این این آئی)قطر کے حکمران نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلا کے سبب سرمایہ جاتی اخراجات کے منصوبوں کے لیے غیر پیش کردہ معاہدوں کو ملتوی کر دیا جائے۔ مذکورہ معاہدوں کی مالیت 8.2 ارب امریکی ڈالر ہے۔

غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جاری بونڈ پراسپیکٹس کی دستاویز میں قطر نے کہا کہ وائرس کے پھیلا ئوکے سبب قطر میں معیشت اور فنانشل مارکیٹس پر منفی اثرات مرتب ہونے کا سلسلہ جاری رہ سکتا ہے۔ ممکنہ طور پر اس کا نتیجہ کساد بازاری کی صورت میں سامنے آئے۔دوسری جانب قطر نے اقرار کیا کہ تیل کی قیمتوں میں کمی کا ملک کی آمدنی اور اس کے مالی حالات پر بڑا اقتصادی اثر ہو گا۔ اس لیے کہ 2018 کی مجموعی آمدنی میں تیل اور گیس کے سیکٹر کا تناسب 83.3% رہا تھا۔ گذشتہ برس مجموعی مقامی پیداوار میں اس سیکٹر کا حصہ 34% تھا۔قطر نے تین مختلف مدتوں کے لیے ڈالر بونڈز کی مارکیٹنگ کا آغاز کر دیا۔ یہ بونڈز 5، 10 اور 30 سال کی مدت کے لیے ہوں گے۔ اس کا مقصد کرونا وائرس کے سبب تیل کی قیمتوں میں کمی کے بیچ سیالیت کا حجم میں اضافہ کرنا ہے۔قطر کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے ٹویٹر پر توانائی کے امور کے وزیر مملکت اور سرکاری کمپنی قطر پٹرولیم کے چیف ایگزیکٹو کے حوالے سے بتایا کہ مذکورہ کمپنی اپنی گیس کی نئی تنصیبات سے پیداوار کا آغاز 2025 تک ملتوی کر دے گی۔ اس کا سبب بولی لگانے کے عمل میں تاخیر ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…