جمعہ‬‮ ، 03 اپریل‬‮ 2026 

سگریٹ چوری کرنے کی سزا۔۔۔۔۔عمر قید

datetime 23  جون‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک )قانون کے مطابق اگرکوئی شخص دو بار سنجیدہ نوعیت کے جرائم کا ارتکاب کرچکا ہو تو تیسری بار میں اسے عمر قید کی سزا دی جاسکتی ہے فوٹو : فائل
پاکستان کے سیاسی و عدالتی نظام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے روٹی چرانے والا بھوکا جیل کی ہوا کھاتا ہے جب کہ اربوں کھربوں لوٹنے والے ملک کے حکمران بن جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں کچھ ایسا ہی امریکی ریاست جنوبی کیرولینا میں ہوا جہاں عدالت نے سگریٹ چرانے کے ملزم کو عمرقید کی سزا سنادی!
56 سالہ ڈیوڈ ڈیورن جونیئر کا تعلق جنوبی کیرولینا کی سمٹر کانٹی سے ہے۔ اس نے 2011 میں ایک سپراسٹور میں نقب لگاکر سگریٹ کے کارٹن چوری کرلیے تھے جن کی مالیت 900 ڈالر تھی۔ کچھ عرصے کے بعد پولیس نے ڈیوڈ کو نقب زنی اور سگریٹوں کی چوری کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تفتیشی اہل کاروں کو سپراسٹور میں رکھے ہوئے ڈیپ فریزر پر خون کا دھبا نظر آیا تھا۔
خون کے نمونے کی مدد سے ڈی این اے حاصل کیا گیا۔ اس ڈی این اے کا موازنہ ملازمین کے ڈی این اے کے نمونوں سے کیا گیا، مگر ان میں کوئی مماثلت نہیں پائی گئی۔ پھر اسے پولیس ریکارڈ سے ملایا گیا تو یہ ڈیوڈ ڈیورن جونیئر کے ڈی این سے میچ کرگیا۔ دراصل ڈیوڈ عادی مجرم ہے۔ 1983 سے 2013 کے درمیان وہ پانچ بار چوری کے الزام میں گرفتار ہوچکا تھا۔ ایک بار اسے ایک شخص کی املاک کو آگ لگانے کے الزام میں بھی سزا ہوئی تھی۔ یوں پولیس کے پاس اس کا ریکارڈ موجود تھا۔
گرفتاری کے بعد چار برس تک ڈیوڈ پر سگریٹوں کی چوری کا مقدمہ چلتا رہا۔ بالآخر گذشتہ ہفتے اسے عدالت نے عمر قید کی سزا سنادی۔
ڈیوڈ کی سزا پر عام لوگوں نے انتہائی حیرت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محض 900 ڈالر مالیت کی اشیا چوری کرنے پر عمرقید کی سزا کا فیصلہ ناقابل فہم ہے۔ سمٹر کاﺅنٹی کے چیف لیگل آفیسر چپ فنی نے اس بارے میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیوڈ جونیئر کا کیس جنوبی کیرولینا کے تھری اسٹرائکس لا کے تحت آتا ہے۔ اس قانون کے مطابق اگرکوئی شخص دو بار سنجیدہ نوعیت کے جرائم کا ارتکاب کرچکا ہو تو تیسری بار میں اسے عمر قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ ڈیوڈ کے معاملے میں جج نے اسی قانون کا سہارا لیا۔ تاہم لوگوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا سگریٹوں کی چوری اس قدر سنجیدہ نوعیت کا جرم ہے جس کے ارتکاب کی صورت میں عمرقید کی سزا دی جاسکتی ہو؟
اس سوال کے جواب میں چپ فنی نے کہا کہ ڈیوڈ ڈیورن کو ماضی میں خود کو سدھارنے کا موقع بھی دیا گیا مگر وہ اسی ڈگر پر چلتا رہا۔ جیل میں اسے بحالی ( rehabilitation) کے پروگرام بھی کروائے گئے، مگر اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس لحاظ سے ڈیوڈ کے اس جرم کی نوعیت سنگین ہوجاتی ہے کہ وہ اپنی روش بدلنے پر تیار نہیں۔
ڈیوڈ کو سرکار کی جانب سے دو وکلائے صفائی کی خدمات پیش کی گئی تھیں مگر اس نے انکار کردیا تھا۔ اس نے اپنا مقدمہ خود لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ڈیوڈ کو یہ بھی پیش کش کی گئی تھی کہ اگر وہ رضاکارانہ طور پر اپنا جرم تسلیم کرتے ہوئے معافی کی درخواست کرے تو اسے پندرہ برس سے زیادہ کی سزا نہیں ہوگی، مگر اس نے یہ پیش کش مسترد کردی تھی۔ چناں چہ مقدمے کی کارروائی تمام ہونے پر جج نے اسے زندگی کے بقیہ ایام سلاخوں کے پیچھے گزارنے کا حکم سنادیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مشہد میں دو دن


ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…

مذہب کی جنگ(تیسرا حصہ)

بخت نصر نے 586 قبل مسیح میں یروشلم پر حملہ کر کے…

مذہب کی جنگ(دوسرا حصہ)

بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہب کی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…