اسلام آباد(نیوزڈیسک )قانون کے مطابق اگرکوئی شخص دو بار سنجیدہ نوعیت کے جرائم کا ارتکاب کرچکا ہو تو تیسری بار میں اسے عمر قید کی سزا دی جاسکتی ہے فوٹو : فائل
پاکستان کے سیاسی و عدالتی نظام کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں پیٹ کی آگ بجھانے کے لیے روٹی چرانے والا بھوکا جیل کی ہوا کھاتا ہے جب کہ اربوں کھربوں لوٹنے والے ملک کے حکمران بن جاتے ہیں۔ پچھلے دنوں کچھ ایسا ہی امریکی ریاست جنوبی کیرولینا میں ہوا جہاں عدالت نے سگریٹ چرانے کے ملزم کو عمرقید کی سزا سنادی!
56 سالہ ڈیوڈ ڈیورن جونیئر کا تعلق جنوبی کیرولینا کی سمٹر کانٹی سے ہے۔ اس نے 2011 میں ایک سپراسٹور میں نقب لگاکر سگریٹ کے کارٹن چوری کرلیے تھے جن کی مالیت 900 ڈالر تھی۔ کچھ عرصے کے بعد پولیس نے ڈیوڈ کو نقب زنی اور سگریٹوں کی چوری کے الزام میں گرفتار کرلیا۔ پولیس کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق تفتیشی اہل کاروں کو سپراسٹور میں رکھے ہوئے ڈیپ فریزر پر خون کا دھبا نظر آیا تھا۔
خون کے نمونے کی مدد سے ڈی این اے حاصل کیا گیا۔ اس ڈی این اے کا موازنہ ملازمین کے ڈی این اے کے نمونوں سے کیا گیا، مگر ان میں کوئی مماثلت نہیں پائی گئی۔ پھر اسے پولیس ریکارڈ سے ملایا گیا تو یہ ڈیوڈ ڈیورن جونیئر کے ڈی این سے میچ کرگیا۔ دراصل ڈیوڈ عادی مجرم ہے۔ 1983 سے 2013 کے درمیان وہ پانچ بار چوری کے الزام میں گرفتار ہوچکا تھا۔ ایک بار اسے ایک شخص کی املاک کو آگ لگانے کے الزام میں بھی سزا ہوئی تھی۔ یوں پولیس کے پاس اس کا ریکارڈ موجود تھا۔
گرفتاری کے بعد چار برس تک ڈیوڈ پر سگریٹوں کی چوری کا مقدمہ چلتا رہا۔ بالآخر گذشتہ ہفتے اسے عدالت نے عمر قید کی سزا سنادی۔
ڈیوڈ کی سزا پر عام لوگوں نے انتہائی حیرت کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ محض 900 ڈالر مالیت کی اشیا چوری کرنے پر عمرقید کی سزا کا فیصلہ ناقابل فہم ہے۔ سمٹر کاﺅنٹی کے چیف لیگل آفیسر چپ فنی نے اس بارے میں ذرائع ابلاغ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ڈیوڈ جونیئر کا کیس جنوبی کیرولینا کے تھری اسٹرائکس لا کے تحت آتا ہے۔ اس قانون کے مطابق اگرکوئی شخص دو بار سنجیدہ نوعیت کے جرائم کا ارتکاب کرچکا ہو تو تیسری بار میں اسے عمر قید کی سزا دی جاسکتی ہے۔ ڈیوڈ کے معاملے میں جج نے اسی قانون کا سہارا لیا۔ تاہم لوگوں کی جانب سے یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا سگریٹوں کی چوری اس قدر سنجیدہ نوعیت کا جرم ہے جس کے ارتکاب کی صورت میں عمرقید کی سزا دی جاسکتی ہو؟
اس سوال کے جواب میں چپ فنی نے کہا کہ ڈیوڈ ڈیورن کو ماضی میں خود کو سدھارنے کا موقع بھی دیا گیا مگر وہ اسی ڈگر پر چلتا رہا۔ جیل میں اسے بحالی ( rehabilitation) کے پروگرام بھی کروائے گئے، مگر اس میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ اس لحاظ سے ڈیوڈ کے اس جرم کی نوعیت سنگین ہوجاتی ہے کہ وہ اپنی روش بدلنے پر تیار نہیں۔
ڈیوڈ کو سرکار کی جانب سے دو وکلائے صفائی کی خدمات پیش کی گئی تھیں مگر اس نے انکار کردیا تھا۔ اس نے اپنا مقدمہ خود لڑنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ڈیوڈ کو یہ بھی پیش کش کی گئی تھی کہ اگر وہ رضاکارانہ طور پر اپنا جرم تسلیم کرتے ہوئے معافی کی درخواست کرے تو اسے پندرہ برس سے زیادہ کی سزا نہیں ہوگی، مگر اس نے یہ پیش کش مسترد کردی تھی۔ چناں چہ مقدمے کی کارروائی تمام ہونے پر جج نے اسے زندگی کے بقیہ ایام سلاخوں کے پیچھے گزارنے کا حکم سنادیا۔
سگریٹ چوری کرنے کی سزا۔۔۔۔۔عمر قید
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
پروٹیکٹیڈ صارفین کی سبسڈی ختم کرنے کی تجویز نا منظور
-
اللہ سے خوش قسمتی مانگو
-
ملک بھر میں عیدالاضحی پر گیس فراہمی کا شیڈول جاری کردیا گیا
-
جسپریت بمراہ نے ٹی 20 کی تاریخ کا ناپسندیدہ اور منفرد ریکارڈ بنا لیا
-
جائیداد کے تنازع پر فائرنگ، باپ، تین بیٹے اور بیٹی جاں بحق
-
بھانجی سے زیادتی مقدمے میں نامزد ملزم پولیس مقابلے میں ہلاک
-
کیا تعلیمی اداروں میں موسمِ گرما کی تعطیلات 15 جون سے ہوں گی؟ طلبا کے لئے نئی خبر آگئی
-
ماہانہ 200 یونٹ سے کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کیو آر کوڈ کے ذریعے سبسڈی کیسے حاصل کریں؟ طریقہ...
-
ثاقب چدھڑ نے مومنہ اقبال کو کیا کچھ دیا؟ ارشاد بھٹی کا بڑا دعویٰ
-
نجی ہسپتال سے 18 سالہ نرس کی لاش برآمد
-
بھارت میں رواں ماہ پیٹرول اور ڈیزل کی قیمت میں چوتھی بار اضافہ کردیاگیا
-
پاکستان بھر سے اندرون اور بیرونِ ملک کی 83 پروازیں منسوخ، وجہ سامنے آگئی
-
فریج کے بغیر قربانی کا گوشت محفوظ رکھنے کا زبردست طریقہ
-
غیرقانونی طریقے سے یورپ جانے کی خواہش، درجنوں پاکستانی ڈی پورٹ



















































