اتوار‬‮ ، 09 اگست‬‮ 2026 

کورونا وائرس سے بڑا المیہ، دیہاڑی دار روزی روٹی کیلئے محتاج، فاقوں پر مجبور لاک ڈائون ختم کیا جائے،حکومتی اقدامات سے مایوس بیروزگار افراد کا مطالبہ

datetime 5  اپریل‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی)سندھ میں لاک ڈائون نے کورونا سے بڑے المیے کو جنم دے دیامزدور اور دیہاڑی دار طبقہ روزی روٹی کے لیے محتاج ہو گیا ہے۔ سندھ حکومت تاحال راشن کی فراہمی کا میکنزم ہی نہ بنا سکی۔ غریبوں کے گھروں میں فاقوں کی نوبت آ گئی، ہزاروں افراد سڑکوں پر آ گئے۔کورونا کے خلاف لاک ڈائون کی حکمت عملی نئے بحران کو جنم دینے لگی۔ دیہاڑی دار طبقہ بھوک کے سامنے بے بس ہو گیا۔

سندھ حکومت نے لاک ڈائون کے ذریعے کورونا کا پھیلائو تو کسی حد تک روک لیا لیکن ذرائع آمدن کی بندش سے غریب مزدور پس کر رہ گئے ہیں۔ہر گھر کے خالی برتن غریب کی برداشت سے لبریز ہوگئے، خواتین راشن کے حصول کے لیے ماری ماری پھرنے لگیں۔ بھوک سے جنگ نے لوگوں کو کورونا کے خلاف جنگ اور سرکاری احکامات کی پابندی کا خوف بھی بھلا دیا۔ وعدوں کا حساب لینے کیلیے عوام تین روز قبل ڈپٹی کمشنر کورنگی کے دفتر چڑھ دوڑے۔ لیاری کے مکینوں نے بھی ماڑی پور روڈ بلاک کرکے احتجاج کیا۔ضرورت مند افراد میں راشن کیسے تقسیم کیا جائے، ابھی بھی اجلاس ہو رہا ہے، لوگ سڑکوں پر نکل کر مظاہرے کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں، ہر ضلع میں ضرورت مند افراد کی تعداد پچاس سے ستر ہزار تک پہنچ چکی ہے لیکن انتظامیہ طے نہیں کرسکی کہ ان افراد تک راشن کیسے پہنچایا جائے۔یوسی چیئرمین کہتے ہیں مستحق افراد کی فہرستیں ڈپٹی کمشنر کو بھجوا دی ہیں تاہم ابھی تک یہی طے کیا جا رہا ہے کہ راشن کن لوگوں کو دیا جائے۔بلدیاتی نمائندے کہتے ہیں راشن کیلئے یوسی دفاتر کا گھیرائو شروع ہو چکا ہے، نوٹس نہ لیا گیا تو بدترین صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔حکومتی اقدامات سے مایوس بیروزگار افراد کا مطالبہ ہے کہ لاک ڈائون ختم کیا جائے تاکہ وہ اپنی روزی کما سکیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…