بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

دنیا بھر میں اربوں افراد کی روزانہ ایک ایسی غلطی جو بلڈپریشر ہی نہیں بلکہ مدافعتی نظام کو بھی کمزور کردیتی ہے،سائنس دانوں کا اہم انکشاف

datetime 29  مارچ‬‮  2020 |

برلن(این این آئی)سائنسدانوں نے انکشاف کیا ہے کہ دنیا بھر میں کروڑوں بلکہ اربوں افراد اپنی غذا میں ایک ایسی غلطی روز کرتے ہیں جو بلڈپریشر ہی نہیں بلکہ مدافعتی نظام کو بھی کمزور کردیتی ہے۔اور یہ ہے کہ کھانے میں زیادہ مقدار میں نمک کا استعمال۔

میڈیارپورٹس کے مطابق یہ بات جرمنی میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔بون یونیورسٹی ہاسپٹل کی تحقیق کے دورانن چوہوں کو زیادہ نمک والی غذا کا استعمال کرائے جانے پر دریافت کیا گیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ بیکٹریل انفیکشن کا شکار ہونے لگے۔اسی طرح محققین نے دیکھا کہ جو انسان روزانہ 6 گرام اضافی کھاتے ہیں، ان میں بھی مدافعتی کمزوریاں نظر آنے لگتی ہیں۔جریدے جرنل سائنس ٹرانزیشنل میڈیسین میں شائع تحقیق کے مطابق عالمی ادارہ صحت نے ایک دن کے لیے نمک کی مقدار 5 گرام طے کررکھی ہے، جو ایک چائے کے چمچ کے برابر ہے۔مگر بیشتر افراد ہی اس سے زیادہ مقدار میں نمک روزمرہ کی بنیادوں پر جزوبدن بنالیتے ہیں، جسس سے بلڈ پریششر کی شرح میں اضافہ ہوتا ہے اور ہارٹ اٹیک یا فالج کا خطرہ بڑھتا ہے۔مگر محققین کا کہنا تھا کہ پہلی بار ہم یہ ثابت کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں کہ زیاہد نمک کھانے کی عادت مدافعتی نظام کو نمایاں حد تک کمزور کرسکتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ جسم نمک کو خون اور اعضا میں جمع کرتا ہے تاکہ اہم حیاتیاتی عمل جار رہ سکے، جبکہ جلد کو نمک کے ذخیرے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔سوڈیم کلورائیڈ سے انسانی مدافعتی نظام پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور محققین نے دریافت کیا کہ روزانہ صرف 11 گرام نمک یا 2 بار فاسٹ فوڈ کا استعمال ایک ہفتے میں مدافعتی خلیات کو کمزور کرنے کے لیے کافی ہوتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…