پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

ماسک یا دستانوں کا استعمال کورونا وائرس کے خطرات بڑھاتا ہے،ماسک یا دستانوں کیلئے مارے مارے پھرنے والوں کیلئے طبی ماہرین کا دھماکہ خیز انکشاف

datetime 19  مارچ‬‮  2020 |

کراچی(این این آئی) طبی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ ماسک یا دستانوں کا استعمال کورونا وائرس سے بچاؤ کے بجائے اس میں مبتلا ہونے کے خطرات بڑھا سکتا ہے۔عالمی ادارہ برائے صحت (ڈبلیو ایچ او)کے حکام کے مطابق کورونا وائرس سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ ہاتھوں کو بار بار دھویا جائے، چہرہ چھونے سے اجتناب جبکہ دوسروں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے فاصلہ رکھا جائے۔

طبی ماہرین نے بتایاکہ جو افراد وائرس سے بچاؤ کیلئے ماسک کا استعمال کرتے ہیں وہ بس ان کے ذہن کی اختراع ہے، حالانکہ ماسک کے آلودہ ہونے کی زیادہ گنجائش ہے۔ماہرین کی رائے ہے کہ اگر لوگ اپنا چہرہ چھونے سے اجتناب نہیں کرتے تو وائرس سے بچنے کیلئے دستانے پہننے کا بھی کوئی فائدہ نہیں ہے۔عالمی ادارہ صحت کے ایمرجنسی ڈائریکٹر مائیک ریان نے اس بارے میں کہا کہ اس بات کا بہت کم امکان ہے کہ ماسک سے ناک اور منہ ڈھانپ کر آپ اس وائرس سے متاثر ہونے سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ سب سے ضروری بات یہی ہے کہ ہاتھوں کو جتنا ہو سکے صاف ستھرا رکھا جائے اور چہرہ چھونے سے اجتناب کیا جائے۔ماہرین نے کہاکہ ماسک صرف اس صورت میں استعمال کیا جائے جب شبہ ہو کہ آپ یا دوسرا شخص اس مرض میں مبتلا ہے۔ بہرصورت جتنا ہو سکے گھر میں قیام کیا جائے اور غیر ضروری طور پر باہر نہ نکلیں۔2015 میں امریکی جنرل میں چھپنے والی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک عام شخص ہر گھنٹے میں تقریبا 20 مرتبہ اپنے چہرے کو چھوتا ہے۔کورونا وائرس کی بات کی جائے تو آنکھ، کان اور ناک کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہوتا ہے۔ اس لیے دستانے صاف ستھرے ہاتھوں کا کبھی متبادل نہیں ہو سکتے۔کورونا وائرس کے خطرناک پھیلا ؤکے پیش نظر یورپی ممالک اٹلی، اسپین اور فرانس میں اس وقت لاک ڈان کی صورتحال ہے لیکن عالمی ادارہ صحت کی جانب سے عوام کو جو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کی خصوصی ہدایات جاری کی گئیں ان میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ڈبلیو ایچ اور کی جانب سے اندازہ لگایا ہے کہ اس وقت دنیا بھر میں کورونا وائرس سے نبردآزما طبی عملے کو تقریبا ہر ماہ 89 ملین ماسک کی ضرورت پڑ سکتی ہے لیکن خدشہ ہے کہ اس کی قلت کے باعث انھیں مشکلات کا سامنا پڑے۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…