جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

بابری مسجد کی جگہ رام مندر بنانے کے فیصلے کا انعام ، سابق چیف جسٹس کو رنجن گوگوئی کوپارلیمنٹ کا رکن بنادیا گیا

datetime 17  مارچ‬‮  2020 |

دہلی(ساوتھ ایشین وائر)بابری مسجد کا متنازعہ فیصلہ دینے والے بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو بی جے پی حکومت نے راجیہ سبھا کا رکن نامزد کرکے انعام سے نواز دیا۔بھارتی سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے گزشتہ سال نومبر میں بابری مسجد کی ملکیت انتہا پسند ہندوں کو دینے کا حکم سنایا تھا۔

راجیہ سبھا کے رکن ٹی جی تلسی کی ریٹائرمنٹ کے نتیجے میں خالی نشست پر انہیں رکن نامزد کیا گیا۔سائوتھ ایشین وائر کے مطابق گوگوئی نے پانچ ججوں کے اس بنچ کے سربراہ تھے جس نے گزشتہ سال 9 نومبر کو بابری مسجد ۔ رام جنم بھومی ایودھیا اراضی تنازعہ کا فیصلہ سنایا تھا ۔ سینئر وکلا سنجے ہیگڑے، پرشانت بھوشن، گوتم بھاٹیانے سابق چیف جسٹس رنجن گگوئی کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے پر شدید تنقید کی ہے۔القمرآن لائن کے مطابق سپریم کورٹ کے سینئر وکیل سنجے ہیگڑے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ اب یہ صرف ان کے ذاتی جوڈیشل ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے۔ اس طرح سے انھوں نے اپنے ساتھ بیٹھنے والے سبھی ججوں کی آزادی اور غیر جانبداری پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ سائوتھ ایشین وائر کے مطابق سینئر وکیل گوتم بھاٹیا نے اس قدم کو آزاد عدالت کی موت قرار دیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ چیزوں کے واضح ہونے میں کچھ وقت ضرور لگا اور وہ کھل کر سامنے آ گیا، لیکن آزاد عدلیہ کی موت ہو گئی۔ آل انڈیا مجلس اتحادالمسلمین(اے آئی ایم آئی ایم) سربراہ اسدالدین اویسی نے اپنے ٹوئٹ میں سوال کر دیا ہے کہ کیا یہ معاوضہ ہے؟ ساتھ ہی انھوں نے یہ بھی لکھ دیا ہے کہ کوئی شخص آخر کس طرح ججوں کی آزادی کا بھروسہ کر سکتا ہے۔ القمرآن لائن کے مطابق مشہور و معروف وکیل اور سماجی کارکن پرشانت بھوشن نے بھی سابق چیف جسٹس کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے کے بعد اپنا سخت رد عمل سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ظاہر کیا ہے۔ سپریم کورٹ بار ایسو سی ایشن کے سربراہ دشینت دوے نے سابق چیف جسٹس کو راجیہ سبھا رکن بنائے جانے کو سیاسی معاملہ قرار دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…