اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

شعیب ملک سے طلاق کے بعد ثانیہ مرزاکابڑااعتراف

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

حیدرآباد: بھارتی ٹینس اسٹار ثانیہ مرزا نے پہلی بار کھل کر اعتراف کیا ہے کہ سابق شوہر شعیب ملک سے علیحدگی کے بعد سنگل پیرنٹ کے طور پر زندگی گزارنا ان کے لیے بہت مشکل ثابت ہو رہا ہے۔ ثانیہ کے مطابق، سرحد پار اپنے بیٹے اذہان کی پرورش ایک مسلسل اور جذباتی طور پر بھاری آزمائش ہے۔

شادی کے بعد دبئی منتقل ہونے والی ثانیہ مرزا اس وقت اپنے بیٹے کی بنیادی دیکھ بھال خود کر رہی ہیں۔ حال ہی میں فلم ساز اور میزبان کرن جوہر کے ساتھ گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ تنہا والدین بننا جذباتی طور پر کافی دشوار ہے، اور پیشہ ورانہ مصروفیات کے ساتھ اس ذمہ داری کو نبھانا اور بھی مشکل ہو جاتا ہے۔

ثانیہ نے کہا، “میرے لیے سنگل پیرنٹنگ واقعی مشکل ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ہم اپنے کام کے ساتھ کئی ذمہ داریاں بیک وقت نبھاتے ہیں۔”

کرن جوہر، جو خود بھی سنگل والد ہیں، نے ثانیہ کو صورتحال کا مثبت پہلو دکھاتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات اکیلے فیصلے کرنا آسان ہو جاتا ہے کیونکہ کسی کے ساتھ اختلاف یا مشاورت کی ضرورت نہیں پڑتی۔

گفتگو کے دوران ثانیہ نے یہ بھی بتایا کہ کبھی کبھار کام کے سلسلے میں گھر سے نکلنا اور اپنے بیٹے کو پیچھے چھوڑنا ان کے لیے بہت جذباتی طور پر تکلیف دہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات تنہائی کا احساس کم کرنے کے لیے کھانے کی جگہ چھوڑ دیتی ہیں تاکہ اکیلے بیٹھنے کا احساس نہ ہو۔

ثانیہ مرزا نے تسلیم کیا کہ پیشہ ورانہ مصروفیات اور والدین کی ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم رکھنا سب سے بڑا چیلنج ہے، خاص طور پر جب بچہ دو ممالک میں رہنے والے والدین کے درمیان وقت تقسیم کرتا ہو۔

ان کی اس کھلی گفتگو نے کئی سنگل والدین کے جذبات کی عکاسی کی ہے، جو اپنے کیریئر اور بچوں کی پرورش کے درمیان روزانہ کی جدوجہد سے گزرتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میں لکڑی اور لوہے جیسا…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…