پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

تنخواہ دارطبقے کیلئے بڑی خبر

datetime 20  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

اسلام آباد: ملکی معیشت کے تناظر میں حکومت نے تنخواہ دار طبقے سمیت دیگر شعبوں پر بھی بھاری ٹیکس عائد کیے تھے، اور عام تاثر یہ تھا کہ سب سے زیادہ ٹیکس تنخواہ دار طبقہ ہی دیتا ہے۔ تاہم ایف بی آر کے تازہ ریکارڈ سے یہ تاثر غلط ثابت ہوا ہے۔

قومی اسمبلی میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2024-25 میں تنخواہ دار طبقے سے 498 ارب روپے ٹیکس وصول کیا گیا، جبکہ اس دوران مجموعی ٹیکس آمدنی 11 ہزار 747 ارب روپے رہی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ ٹیکس دینے والے شعبے بینکنگ اور پیٹرولیم ہیں۔ بینکنگ سیکٹر نے 1,127 ارب روپے جبکہ پیٹرولیم سیکٹر نے 1,121 ارب روپے ٹیکس ادا کیے۔ تیسرے نمبر پر پاور سیکٹر ہے جس سے 858 ارب روپے ٹیکس حاصل ہوئے۔ اس کے علاوہ ریٹیلرز اور ہول سیلرز سے 693 ارب روپے اور تنخواہ دار طبقے سے 498 ارب روپے ٹیکس جمع ہوا۔

رپورٹ کے مطابق بینکنگ اور پیٹرولیم شعبے نے مجموعی طور پر 2,248 ارب روپے سے زائد قومی خزانے میں جمع کرائے، جو مجموعی ٹیکس آمدنی کا تقریباً 19.1 فیصد بنتا ہے۔

مجموعی ٹیکس وصولی کی تفصیل کچھ یوں ہے: انکم ٹیکس سے 5,794 ارب روپے، سیلز ٹیکس سے 3,901 ارب روپے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی سے 767 ارب روپے اور کسٹم ڈیوٹی سے 1,285 ارب روپے وصول ہوئے۔

ایف بی آر کا کہنا ہے کہ اگرچہ تنخواہ دار طبقہ ٹیکس نظام میں اہم کردار ادا کر رہا ہے، لیکن بڑے معاشی شعبے ٹیکس کی مد میں کہیں زیادہ رقم قومی خزانے میں جمع کروا رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…