پیر‬‮ ، 10 اگست‬‮ 2026 

سعودی عرب میں پاکستانی قونصلیٹ کی جانب سے عمرہ زائرین کو اہم ہدایت جاری

datetime 13  مارچ‬‮  2020 |

جدہ(آن لائن ) سعودی حکومت کی جانب سے مملکت میں مقیم افراد کو 72 گھنٹوں کے اندر اندر اپنے اپنے وطن واپس جانے کا حکم سْنایا ہے، تاہم فلائٹس کے مسائل کی وجہ سے پاکستانی عمرہ زائرین بہت زیادہ پریشانی کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے پاکستانی قونصل خانے نے عمرہ زائرین کی وطن واپسی یقینی بنانے کے لیے ایک کمیٹی قائم کر دی ہے جو ڈپٹی قونصل جنرل کی سربراہی میں کام کرے گی۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے  پاکستانی قونصل جنرل خالد مجید نے کہا کہ سفری پابندیوں کے باعث پاکستان میں موجود اقامہ ہولڈرز کی مملکت واپسی کی راہ میں درپیش مشکلات سے نمٹنے کے لیے سعودی حکام سے بھی رابطہ کر لیا گیا ہے۔ قونصل جنرل کا کہنا تھا کہ ہم عمرہ زائرین کی مدد کے لیے ہر وقت موجود ہیں۔قونصل جنرل نے بتایا کہ سعودی عرب کی جانب سے سفری پابندی کے بعد لگ بھگ 40 ہزار عمرہ زائرین یہاں موجود ہیں۔ان کی مدد کے لیے کارروائی کی جا رہی ہے۔ خالد مجید نے بتایا کہ پی آئی اے اور ایئر بلیو کے ذریعے 18 ہزار عمرہ زائرین سعودی عرب آئے جبکہ اتنی ہی تعداد میں زائرین خلیجی ممالک کی ایئرلائنز کے ذریعے پہنچے تھے۔خلیجی ایئرلائنز کی پروازیں اس وقت سعودی عرب کے لیے معطل ہیں۔ غیر ملکی ایئرلائنز سے آنے والے زائرین کے ٹکٹس کی ایڈجسٹمنٹ اور انہیں پی آئی اے اور ایئر بلیو کی فلائٹس میں روانہ کرنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ خالد مجید کا کہنا تھا کہ پی آئی اے اور ایئر بلیو کے کنٹری مینیجرز سے تفصیلی بات ہوچکی ہے اور پاکستان میں عمرہ ٹریول ایسوسی ایشن سے بھی رابطے میں ہیں۔ کوشش ہے کہ عمرہ زائرین بروقت اور خیریت سے واپس پاکستان پہنچ جائیں۔قونصل جنرل نے مزید کہا کہ ’قونصل خانے کی کمیٹی سعودی وزارت حج سے رابطہ کرکے یہ معلوم کر رہی ہے کہ مکہ اور مدینہ میں اس وقت کتنے پاکستانی زائرین موجود ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)


میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…