جمعہ‬‮ ، 14 اگست‬‮ 2026 

نئی دہلی فسادات میں مارے گئے اپنے دو بیٹوں کی لاشیں اٹھانے والے باپ کی دردناک داستان

datetime 1  مارچ‬‮  2020 |

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)نئی دہلی فسادات کی نظر ہونے والے دو بیٹوں کی لاشیں اٹھانے والے باپ کی دردناک داستان سامنے آگئی ۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی دارلحکومت نئی دہلی کے بابو خان کا فسادات میں مارے گئے دو بیٹوں لاشیں اٹھانا زندگی کا سب سے دردناک مرحلہ قرار ۔ دہلی فسادات کے دوران جاں بحق ہونیوالے 30سالہ عامر خان اور 19سالہ ہاشم علی کی لاشوں کا پوسٹمارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئیں ۔

بابو خان کے دونوں بچے جاں بحق ہونیوالے 44افراد میں شامل ہیں جنہیں شمالی مشرقی دہلی فسادات میں مارا گیا ۔ ۔ افسردہ بابو خان ​​پہلے لاشیں مصطفیٰ آباد میں اپنے بیٹے عامر خان کے گھر لے گئے جہاں ان کی دو بیٹیاں اپنے والد عامر کی گھر واپسی کی منتظر تھیں۔ان لاشوں کو پہلے مصطفیٰ آباد میں عامر خان کے گھر رکھا گیا، جہاں ہزاروں افراد لواحقین سے تعزیت کے لئے جمع ہوئے تھے، اس کے بعد بابو خان ​​نے اپنی زندگی کا سب سے مشکل سفر کا آغاز کیا یعنی وہ اپنے دونوں بیٹوں کی لاشوں کو اپنے کندھے پر اٹھا کر قبرستان میں چھوڑ کرآیا۔واضح رہے کہ بھارتی دارلحکومت نئی دہلی میں انہتا پسند جنونی ہندوؤں کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے مسلمانوں کی تعداد 44ہوگئی ہے۔تین سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ نئی دہلی میں منظم منصوبے کے تحت مسلمانوں پر حملے کروائے گئے۔معاملے پر پردہ ڈالنے کے لیے بھارتی سرکار نے نمائشی مقدمات اور گرفتاریاں بھی کی ہیں



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)


1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…