جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

نئی دہلی فسادات میں مارے گئے اپنے دو بیٹوں کی لاشیں اٹھانے والے باپ کی دردناک داستان

datetime 1  مارچ‬‮  2020 |

نئی دہلی (مانیٹرنگ ڈیسک)نئی دہلی فسادات کی نظر ہونے والے دو بیٹوں کی لاشیں اٹھانے والے باپ کی دردناک داستان سامنے آگئی ۔ تفصیلات کے مطابق بھارتی دارلحکومت نئی دہلی کے بابو خان کا فسادات میں مارے گئے دو بیٹوں لاشیں اٹھانا زندگی کا سب سے دردناک مرحلہ قرار ۔ دہلی فسادات کے دوران جاں بحق ہونیوالے 30سالہ عامر خان اور 19سالہ ہاشم علی کی لاشوں کا پوسٹمارٹم کے بعد ورثا کے حوالے کر دی گئیں ۔

بابو خان کے دونوں بچے جاں بحق ہونیوالے 44افراد میں شامل ہیں جنہیں شمالی مشرقی دہلی فسادات میں مارا گیا ۔ ۔ افسردہ بابو خان ​​پہلے لاشیں مصطفیٰ آباد میں اپنے بیٹے عامر خان کے گھر لے گئے جہاں ان کی دو بیٹیاں اپنے والد عامر کی گھر واپسی کی منتظر تھیں۔ان لاشوں کو پہلے مصطفیٰ آباد میں عامر خان کے گھر رکھا گیا، جہاں ہزاروں افراد لواحقین سے تعزیت کے لئے جمع ہوئے تھے، اس کے بعد بابو خان ​​نے اپنی زندگی کا سب سے مشکل سفر کا آغاز کیا یعنی وہ اپنے دونوں بیٹوں کی لاشوں کو اپنے کندھے پر اٹھا کر قبرستان میں چھوڑ کرآیا۔واضح رہے کہ بھارتی دارلحکومت نئی دہلی میں انہتا پسند جنونی ہندوؤں کے ہاتھوں جاں بحق ہونے والے مسلمانوں کی تعداد 44ہوگئی ہے۔تین سو سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ نئی دہلی میں منظم منصوبے کے تحت مسلمانوں پر حملے کروائے گئے۔معاملے پر پردہ ڈالنے کے لیے بھارتی سرکار نے نمائشی مقدمات اور گرفتاریاں بھی کی ہیں

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…