جمعہ‬‮ ، 25 ستمبر‬‮ 2026 

ایران سے واپس آنے والے زائرین سے متعلق حکومت نے اپنا فیصلہ سنا دیا

datetime 28  فروری‬‮  2020 |

تفتان( آن لائن ) حکومت نے ایران سے واپس آنے والے زائرین کو ایک ہفتہ تک قرنطینہ میں زیرنگرانی رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بلوچستان کے ضلع تفتان اور دالبندین کا دورہ کیا جہاں انہوں نے وزیراعلیٰ جام کمال سے بھی ملاقات کی۔وزیراعلیٰ سے گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایاکہ تفتان میں رکے ہوئے وہ زائرین جو ایران جانا چاہتے تھے،

انہوں نے رضاکارانہ طور پر واپس آنے پر رضامندی ظاہر کی ہے جن کی تعداد 273 ہے۔ معاون خصوصی اور وزیراعلیٰ کی ملاقات میں فیصلہ کیا گیا کہ ان زائرین کو سیکیورٹی اور سفری سہولیات فراہم کرکے فوری طور پر کوئٹہ لایا جائے گا۔ملاقات میں طے کیا گیا کہ تفتان میں پاکستان ہاؤس میں ہنگامی بنیادوں پر قرنطینہ اور آئیسولیشن وارڈ قائم کیا جائے گا اور زائرین کو ایک ایک ہزار کی تعداد میں روزانہ اسکریننگ کے بعد وطن واپس لایا جائے گا جب کہ زائرین کو ایک ہفتہ تک قرنطینہ میں زیرنگرانی رکھا جائے گا۔وزیراعلیٰ اور معاون خصوصی نے فیصلہ کیا کہ وائرس کی علامات پائے جانے والے شخص کو مزید تشخیص کے لیے آئسولیشن وارڈ میں رکھا جائے گا اور کوئٹہ میں حال ہی میں قائم کی گئی لیبارٹری میں ان کے نمونے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔اس موقع پر وزیراعلیٰ نے بتایا کہ صوبائی حکومت نے تفتان میں قرنطینہ اور تفتان اور دالبندین میں آئسولیشن وارڈ کے قیام کے لیے فوری طور پر 200 ملین روپے جاری کردیئے ہیں۔ڈاکٹر ظفر مرزا نے بتایا کہ کوئٹہ میں کورونا وائرس کی تشخیص کی جدید لیبارٹری قائم کردی گئی ہے جو جلد فعال ہوجائے گی، لیبارٹری میں روزانہ کی بنیاد پر 100 ٹیسٹ کیے جاسکیں گے۔معاون خصوصی کا کہنا تھا کہ ایران کی وزارت صحت نے پاکستان واپس آنے والے زائرین کے ٹیسٹ، اسکریننگ کرنے اور انہیں وہاں ایک ہفتہ تک زیرنگرانی رکھنے کی پیشکش کی ہے، پیشکش کا تفصیلی جائزہ لے کر اس حوالے سے زائرین کے مفاد کے مطابق فیصلہ کیا جائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…