اتوار‬‮ ، 12 اپریل‬‮ 2026 

یورپی پارلیمنٹ نے پاکستان کی دو سالہ جی ایس پی پلس کارکردگی رپورٹ جاری کر دی

datetime 11  فروری‬‮  2020 |

اسلام آباد (این این آئی)یورپی پارلیمنٹ نے پاکستان کی دو سالہ جی ایس پی پلس کارکردگی رپورٹ جاری کر دی،رپورٹ میں پاکستان میں آزادی اظہار اور انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لیا گیا ہے ، رپورٹ کے مطابق یورپی یونین پاکستان کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر ہے ،جی ایس پی پلس سے گزشتہ پانچ سالوں میں پاکستان کی یورپی یونین کو برآمدات 3 ارب 60 کروڑ یورو سے دگنا ہو کر 6 ارب 80 کروڑ یورو ہوگی ۔

رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نیاپنی 66 فیصد درآمدی لائنز پر پاکستانی برآمدات پر ڈیوٹی کم کی ہوئی ہے ۔رپورٹ کے مطابق یورپی یونین نے پاکستان کو اقوام متحدہ کے 27 کنونشنز پر عملدرآمد کیلئے 2014 میں جی ایس پی پلس سے کم دی ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کی یورپی یونین برامدات میں 71 فیصد ٹیکسٹائل کا حصہ ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی حکومت عورتوں اور بچوں کے حقوق کے تحفظ غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کیلئے اقدامات کر رہی ہے ۔رپورٹ کے مطابق حکومت تیسری جنس کے ساتھ غیر امتیازی سلوک کے خاتمے موحول کی بہتری اور گڈ گورننس کیلئے کوشاں ہے ۔رپورٹ کے مطابق پارلیمنٹ نے مارچ 2019 میں فوج عدالتوں کی توسیع نہیں کی، رپورٹ کے مطابق حکومت نے زبردستی لاپتہ ہونیوالے افراد اور مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کیلئے قانون سازی نہیں کی ۔رپورٹ کے مطابق عدم تشدد کیخلاف بل 2019 میں پارلیمنٹ میں لایا گیا تاہم اس پر قانون سازی نہیں ہو سکی ۔رپورٹ کے مطابق قانون سازی میں تاخیر سے سول سوسائٹی حکومت کے مخالفین تنقیدی رائے دینے والوں اور صحافیوں کیخلاف جرائم کا منفی رجحان ہے ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں میڈیا کی آزادی 2018 سے خراب ہو رہی ہے ۔رپورٹ میں بتایاگیاکہ نیشنل سیکورٹی کے نام پر اظہار رائے کو دبایا جا رہا ہے ،حکومت اور سیکورٹی فورسز کی ملی بھگت سے اختلاف رائے کو دبانے پر تشویش ہے ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں انٹرنیشنل این جی اوز کی رجسٹریشن منسوخ کرنے کیلئے وسیع اور غیر مبہم طریقہ کار اختیار کیا گیا ۔رپورٹ کے مطابق ہمیں انٹرنیشنل این جی اوز کی رجسٹریشن کے غیر مبہم طریقہ کار پر شدید تشویش ہے ۔

رپورٹ میں بتایاگیاکہ انسانی حقوق کیلئے کام کرنے والے افراد وکلاء اور صحافیوں کو خوفزدہ کرنے اغوا اور قتل پر باقاعدہ تحقیقات اور عدالتی کاروائی کی ضرورت ہے ۔رپورٹ کے مطابق وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے ایسے کسی کیس پر تحقیقات اور عدالتی کاروائی پر پیش رفت رپورٹ نہیں فراہم کی ۔رپورٹ کے مطابق پاکستان میں مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کا نظام کمزور ہے ۔رپورٹ کے مطابق بچوں کو گھریلو ملازم رکھنے اور اینٹوں کی بھٹیوں پر کام سے روکنے کا کوئی قانون موجود نہیں ۔رپورٹ میں کہاگیاکہ پنجاب حکومت نے لیبر انسپکشن ختم کرنے کا فیصلہ واپس لینے کی یقین دہانی کروائی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق حکومت لیبر یونینز کو ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز اور اسپیشل اکنامک زونز میں کام کرنے دے ،پاکستان میں ماحولیات کے تحفظ کیلئے اقدامات بہتر ہوئے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لفظ اضافی ہوتے ہیں


نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…

مذہب کی جنگ(پانچواں حصہ)

برطانیہ نے دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا میں دو خطے…

مذہب کی جنگ(چوتھا حصہ)

یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان اختلاف واقعہ…